Twitter response:

تعلیم دلاﺅ غربت مٹاﺅ

تعلیم دلا غربت مٹا

دوسروں کے لیے کچھ کرنے کی تڑپ ہو، تومحدود وسائل آڑے نہیں آتے………….کوشش اسکول کی افتتاحی تقریب کا احوال
ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا
وہ کون سا عقیدہ ہے جو واہ ہو نہیں سکتا

تحریر۔فرحت افزا

اس شعر کا صحیح مفہوم 23 مئی 2004 کی شام کو سمجھ آیاجب ہم نے”کوشش سکول“ نواں پنڈ(قلعہ جھنڈا سنگھ) کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ اس شام قدرت بھی بہت مہربان تھی۔کئی دن کی جھلساتی تڑپاتی گرمی کے بعد موسم بہت خوشگوار ہوگیا تھا۔ لہٰذا لاہورسے گوجرانوالہ کے نواح میں واقع نواں پنڈ جاتے ہوئے بڑا لطف آیا۔گاں کے کچے پکے پست و بلند گھروندوں کے درمیان سکول کی پختہ اور خوبصورت عمارت یوں چمک رہی تھی جیسے چودھویں کا چاند ستاروں کے جھرمٹ میں دمکتاہے…….کوشش سکول چودھری محمد صادق کا خواب تھا جس کی تعبیر انہوں نے بہت دوڑ دھوپ کے بعد حاصل کی ہے۔ آئیے ان کے عزم و ہمت کی کہانی پڑھیے۔اس ادارے کے روح رواں،چودھری محمد صادق اسی گاں کے پروردہ ہیں۔ وہ بچپن ہی سے خطاطی اور تعلیم کے دلدادہ تھے مگر اس پسماندہ گاں میں حصول علم بڑا جان جوکھوں کا کام تھا یہاں زیادہ تر لوگ غریب اور ناخواندہ تھے۔ دراصل یہ گاں بٹوارے سے پہلے سکھوں کا علاقہ تھا یہاں کی تمام تر زمینداری سکھوں کے پاس تھی اور مسلمان ان کے مزارع تھے۔تقسیم کے بعد جب سکھ ہندوستان چلے گئے تو یہاں صرف چند مسلمانوں کے گھر باقی رہے۔ اب یہاں پچھتر گھر آبادہیں۔محمد صادق جب پرائمری کے طالب علم تھے، تو اِنہیں خطاطی پر اول انعام ملا۔ من کا ذوق نویسی آگے بڑھا تو انہیں مزید رہبری قریبی گاں کی مسجد کے خطیب مولوی ظہور احمد مرحوم کے وسیلے سے میسر آئی جو لاہور کے اخبارات میں خطاطی کیا کرتے تھے۔یوں چودھری صادق تعلیمی منازل تو زیادہ طے نہ کرسکے لیکن ایک ماہر خطاط ضرور بن گئے۔انہوں نے بہتر مستقبل کے لیے 1965 میں لاہور کا رخ کیا۔اس زمانے میں اچھے خطاطوں کی ضرورت ہر وقت رہتی تھی، لہٰذاہاتھوں ہاتھ لیے گئے۔آتے ہی ایک روزنامے میں ملازمت مل گئی۔کچھ عرصے بعد قسمت انہیں ادارہ اردو ڈائجسٹ لے آئی اور آپ ہفت روزہ زندگی میں خطاط اعلیٰ مقرر ہوئے۔ چند برس بعد زندگی کے سفر کی پگڈنڈی نوائے وقت کی طرف مڑ گئی۔اس دوران ان کے بیوی بچے بھی اس وقت لاہور آگئے۔یوں اپنی جنم بھومی نواں پنڈ سے ان کا رابطہ تقریباً کٹ گیا۔زندگی نے اتنا مصروف رکھا کہ بس گاہے گاہے اپنے بھائیوں ہی سے ملنے جاتے تھے جو وہاں زمینداری کرتے تھے۔انہوں نے اشتہاری کمپنیوں میں بھی ملازمت کی۔ایک وقت ایسا آیا کہ وہ بیک وقت چھ اشتہاری کمپنیوں میں خطاطی کاکام کرتے اور رات کو نوائے وقت جاتے۔ اس محنت شاقہ سے انہوں نے اپنی اولاد کی بہترین پرورش کی۔بقول منو بھائی پانچ انگلیوں کی کمائی سے لاہور میں اپنا گھر بنایا،بچوں کی ذمہ داریوں سے کماحقہ عہدہ براہوئے اور باوقار زندگی گزاری۔وقت کا رتھ آگے چلتا رہا حتی کہ 2000ءآگیا جب ان کی آبائی زمین بٹی۔ان کے حصے 30 کنال زمین آئی جس پر انہوں نے کاشتکاری کا منصوبہ بنایا۔یوں ان کا اپنے گاں سے دوبارہ رابطہ ہوا اور وہ ہر ہفتے وہاں جانے لگے۔ اس آمدورفت میں انہوں نے گاں کے ماحوال کا بنظر غائر جائزہ لیا تو حالات کی رفتار نے انہیں بے چین کردیا۔وہاں کے باسیوں کی زبوں حالی،بچوں کی افراط اور تعلیم و تربیت کی کمی ان کے حساس دل کو بے قرار رکھتی۔نزدیک ترین سکول قلعہ دیدار سنگھ میں تھا جو وہاں سے ڈیڑھ کلو میٹر دور ہے۔چھوٹے بچے اتنا طویل فاصلے طے کرتے گھبراتے اس لیے پڑھنے والے بچے دوچار ہی تھے ،باقی سب سارا دن کینچے کھیلتے،گائے بھینسوں کے پیچھے بھاگتے یا گندے جوہڑوں میں نہاتے۔یہ صورتحال محمدصادق کے لیے بڑی تکلیف دہ تھی ۔وہ گاں کے بچوں کواپنے بچے سمجھتے اور انہیں بھی وہ اپنے بچوں کی طرح سلجھا،سنورا اور تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتے تھے۔وہ ان کی بہتری کا سوچ ہی رہے تھے کہ ایک اچانک حادثہ پیش آیا۔ وہ یہ کہ ان کے بھائی کا پوتا صبح سکول جاتے ہوئے گم ہوگیا جو سارا دن اور ساری رات بھی ڈھونڈنے پر نہ ملا۔اگلے دن اس بچے کی نعش کھیتوں سے ملی جسے کسی شقی القلب نے زیادتی کے بعد مار ڈالا تھا۔ اس واقعہ نے گاں کے لوگوں کو اتنا خوفزدہ کردیا کہ جو چند بچے سکول جاتے تھے،انہیں بھی گھر بٹھا لیا گیا۔ محمد صادق کے لیے یہ صورتحال زخم پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھی ۔وہ یہ سوچ کر تڑپ جاتے کہ اس طرح تومیرے گاں کے بچے ناخواندہ اور جاہل رہ جائیں گے اور ناخواندگی اور غریب ویسے ہی ان کی پکی سہیلیاں ہیں۔تو کیا میرے گاں کے حالات نہیں بدلیں گے۔کیا یہ لوگ کبھی خوشحالی کا منہ نہیں دیکھیں گے ؟کیا آئندہ نسلیں بھی کسمپرسی اوربے چارگی میں زندگی گزاریں گی۔؟یہ سوالات محمد صادق کے ذہن میں ہر وقت کلبلاتے رہتے حتی کہ ان کا چین سکون برباد ہوگیا۔آخر انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں کسی قابل بنایا ہے ،تو وہ ضرور اپنی قوم یا کم از کم اپنے گاں کے لوگوں کوجہالت کے اندھیروں سے نکالیں گے۔اس سلسلے میں انہوں نے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ اپنی زمین میں سے 14 مرلے کا ٹکڑا سکول کے نام وقف کردیا اور ممتاز صحافی منو بھائی سے درخواست کی”آپ اپنے قلم سے حکومت کومتوجہ کرائیں کہ زمین میں نے دی ہے،وہ اس پر سکول بنوا دیں تاکہ گاں کے بچے ہر قسم کے خدشات سے پاک ہوکر تعلیم حاصل کرسکیں،جناب منو بھائی نے 7 دسمبر 2001 کو اس سلسلے میں پہلا کالم لکھا،لیکن کوئی سنوائی نہ ہوئی۔دوسرا کالم گاں میں بچے کا المناک حادثہ کے بعد 29 جولائی 2003 کو”اندیشوں کا زہر امیدوں کا تریاق“ کے نام سے لکھا گیا۔ لیکن حکومت کی طرف سے اب بھی کوئی خیر مقدم ردعمل سامنے نہ آیا۔ یہ دیکھ کر محمد صادق نے خود ہی ہمت کسی اور اس زمین پر پہلے سے تعمیر شدہ دو کمروں میں 8 دسمبر 2003 کو سکول کا اجراءکردیا۔اصل میں یہ دو رہائشی کمرے تھے جو انہوں نے سکول کے نام کر دیئے۔یوں ”کوشش سکول“ وجود میں آگیا۔بعد میں منو بھائی اور ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی جیسے دوستوں کی مدد سے مزید تعمیر عمل میں آئی۔محمد صادق بتاتے ہیں،”سکول شروع کرنے کے بعد میں جناب ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی،ناظم اعلیٰ کار وانِ علم فاﺅندیشن سے ملا وہ  میری اس کاوش سے بہت خوش ہوئے اور میری حوصلہ افزائی بھی کی۔انہوں نے ماہانہ امداد دینے کے ساتھ ساتھ زور دیا کہ سکول سائنسی بنیادوں پر تشکیل دیا جائے یعنی میں پہلے گاں کی آبادی،بچوں کی تعداد اور وسائل کا جائزہ لوں اور آمدنی و خرچ کا گوشوارہ تیار کروں تاکہ مجھے سکول چلانے میں سہولت رہے۔ مکمل جائزہ لینے پر پتا چلا کہ میرے گاں میں پچھتر صاحب اولاد جوڑے ہیں۔بزگ حضرات اس کے علاوہ ہیں۔کثیر العیالی،ناخواندگی اور غربت ان کے سنگی ہیں۔ایک موچی کے گیارہ بچے ہیں لیکن آمدنی برائے نام ہے۔ اسی طرح کسی کے آٹھ اور کسی کے سات بچے ہیں لیکن تعلیم و تربیت نام کو نہیں۔“ان دگرگوں حالات میں محمد صادق نے سکول میں پڑھائی کا آغاز کیا جس میں ان کے بیٹوں نے ان کا بھر پور ساتھ دیا۔ اس سکول میں بلکل مفت تعلیم ہے۔کوئی داخلہ فیس نہیں،نہ کوئی ماہانہ فیس لیکن پھر بھی کئی بچے غیر حاضر رہتے۔جب ان کے والدین سے بات کی گئی تو پتا چلا کہ ان کے پاس تو وردی اور کتابیں خریدنے کے وسائل بھی نہیں۔اب جناب صادق نے یہ بیڑہ بھی اٹھایا اور حقدار بچوں کو کتابیں اور وردی اپنی جیب سے خرید کر دلوائی۔اس وقت ”کوشش سکول“ میں 117 بچے زیر تعلیم ہیں۔سکول کے باقاعدہ افتتاح کی تقریب میں اردو ڈائجسٹ کے ارکان کو بھی مدعو کیا گیا جب ہم وہاں پہنچے،تو محمد صادق نے اپنے اہل خانہ،سکول کی استانیوں اور بچوں کے ساتھ ہمارا پرتپاک استقبال کیا۔سکول کی وردی پہنے ننھے منے بچوں اور ان کے والدین سے سکول کا کشادہ صحن دمک رہا تھا۔سب لوگ بے تحاشا خوش تھے کہ ان کے سکول کے بھاگ جاگ اٹھے ہیں۔لاہور سے سب ساتھی کشاں کشاں پہنچے جن میں جناب ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی بمع اہلیہ،جناب منو بھائی،معروف کارٹونسٹ جاوید اقبال اور بہت سے اخباری نمائندے شامل تھے۔افتتاحی تقریر میں محمد صادق نے پی ٹی وی ورلڈ کی بنائی ہوئی دس منٹ کی فلم دکھائی۔گاں میں اتنا اچھا سکول بنانے کی کاوش پر انہیں سراہا گیا۔اپنی تقریر میں انہوں نے بتایا ”بہت کوششوں کے بعد جب 8 دسمبر2003 کو میرے آنگن میں چند بچے مل کر’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘پڑھ رہے تھے تو میری آنکھوں سے خوشی اور شکرانے کے آنسوں جاری تھے۔ اللہ کا عظیم احسان ہے کہ اس نے مجھے اتنے مخلص ساتھی دیے جن کی مدد سے میں یہ کارنامہ انجام دے سکا۔آج میرے گاں کے لوگ بھی بہت خوش ہیں او ر میں بھی کہ اب میرے گاں کا کوئی بچہ ان پڑھ نہیں رہے گا۔“جناب منو بھائی نے اپنے مختصر خطاب میں محمد صادق سمیت ان تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کیا جو پاکستان میں تعلیم و تربیت کے مواقع بڑھانے کی جستجو میں ہیں۔انہوں نے کہا ”ہمیں اپنے نظام تعلیم اور نصاب کو بدلنا ہوگا تاکہ بھائی چارے اور محبت کی فضا قائم ہوسکے۔پہلی کے قاعدے میں لکھا ہوتاہے۔’میری کتاب،تیری چھتری‘ یہ میری تیری کے الفاظ کیوں؟ ہم بچوں میں محبت و یکانگت کے بڑھانے کے بجائے ان میں ملکیت کا احساس مضبوط کررہے ہیں۔“انہوں نے اس موقع پر جیلوں میں قائم شدہ سکولوں کا تذکرہ بھی کیا اور ایک کمرا ایک سکول کے تحت جو ادارے ملک کے مختلف شہروں میں قائم ہیں،انہیں بھی سراہا۔جناب ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے اپنے خطاب کا آغاز اللہ تعالیٰ کے نام کے بعد اس جملے سے کیا۔”تعلیم دلاغربت مٹا۔“ انہوں نے کہا کہ تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے اور شعور روزگار کی نئی نئی راہیں کھولتاہے۔ تعلیم انسان کا باطن روشن کرتی ہے پھر اسے کوئی کام گھٹیا نہیں لگتا بلکہ اسے کام کی عظمت کا احساس ہوجاتا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے اپنی تقریر میں فنی تعلیم حاصل کرنے پر بھی زور دیا کہ بچوں کو شروع ہی سے کوئی ہنر سکھانا چاہیے۔تعلیم اور ہنر دونوں ضروری ہیں کیونکہ ملازمتیں نہ ملنے سے بڑی تعداد میں لوگ پریشان ہیں۔بڑے ہوکر ہنر سیکھنا زیادہ مشکل ہوتا ہے لہٰذا چھوٹی جماعتوں ہی سے بچے کے ذہنی رجحان کے مطابق اسے کوئی ہنر سکھانا ضروری ہے۔مثلاً بجلی کا کام،لکڑی کا کام،بچیوں کے لیے سلائی کڑھائی،کمپیوٹر وغیرہ۔جناب ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے جناب محمد صادق پر زور دیا کہ ایک تو وہ اپنے سکول میں کسی ہنر کی تعلیم شروع کریں،دوسرے وہاں کے باسیوں کو کم وسائل میں اپنے پیروں پرکھڑا ہونا سکھائیں۔وسائل ادارہ اردو ڈائجسٹ مہیا کرے گا۔ان لوگوں کو ترغیب دیں کہ یہ مرغیاں،بھیڑیں مچھلیاں وغیرہ پالیں۔گاں کے ماحول میں یہ زیادہ مشکل کام نہیں بس ان تک شعور پہنچانے کی کسر ہے او یہ کام صادق صاحب کرسکتے ہیں۔ابھی یہ روح پرور تقریب اپنے عروج پر تھی کہ برکھا نے اپنا سماں باندھ دیا۔یوں موٹی موٹی بوندیں اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکے بھی ہماری خوشیوں میں شامل ہوگئے۔ بارش کےباعث تقریب کو سمیٹنا پڑا لیکن اس کا خوشگوار انجام ایک اچھے کھانے اور کھیتوں کی سیر پر ہوا۔ہم پھر دیہاتیوں کی ہمت وحوصلے کو سراہتے ہوئے لاہور واپس روانہ ہو گئے۔

اردو ڈائجسٹ جون 2004