Twitter response:

شخصیت

پڑھا لکھا" پنجاب ، کے خلاف لکھا تو بیٹی سمیت نوکری سے نکال دیا گیا

ممتاز خطاط اور سماجی شخصیت چودھری محمد صادق کے حالات و خیالات

کرامت علی بھٹی
موبائل فون کی گھنٹی بجی
ہیلو جی آپ چودھری صادق بول رہے ہیں؟
جی بول رہا ہوں۔
میرا نام آصف ہے کوشش سکول میں دروازے اور کھڑکیاں/ وغیرہ لگیں کہ نہیں؟
جی نہیں
اچھا میں دوبارہ فون کروں گا۔
ساڑھے بارہ بجے دوبارہ فون آیا۔
میں نے آپ کے اکانٹ میں 16ہزار روپے جمع کروادیے ہیں۔ ان سے کھڑکیاں اور دروازے لگوا لینا ۔
بھائی صاحب آپ پیسے تو دے رہے ہیں لیکن سکول تو آپ نے دیکھا ہی نہیں۔
آپ جو کررہے ہیں ٹھیک کررہے ہیں مجھے دیکھنے کی ضرورت نہیں ۔ میں جدہ جارہا ہوں میری فلائٹ جانے والی ہے ۔ اچھا خدا حافظ ۔
تریسٹھ سالہ خوش نویس چودھری محمد صادق نے چار سال قبل قلعہ دیدار سنگھ سے ڈیڑھ کلو میٹر دور اپنے گاں نواں پنڈ میں کوشش سکول کا افتتاح کیا تو محمد آصف جیسے کتنے ہی نیک نفس ان کا ہاتھ بٹانے آئے ۔

سول ایسوسی ایشن کے برگیڈیر پرویز بشیر نواز خان سے لے کر دادو کے ڈاکٹر عاصم پرویز اور لاہور کے چودھری نذیر تک کوئی بھی پیچھے نہ رہا ۔ اس مخلصانہ تعاون کا نتیجہ یہ نکلا کہ سو گھرانوں پر مشتمل اس گاں کی نئی نسل بنٹے کھیلنے ، گندے جوہڑوں میں نہانے اور بھینسوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے علم کے نور سے مالا مال ہونے لگی۔ 14 مرلے پر محیط سکول کے لئے جگہ چودھری صادق نے عطیہ کی ۔ اہل خیر کے تعاون سے اب یہاں آٹھ کمرے اور تین برآمدے بنائے جاچکے ہیں ۔اس وقت سکول میں داخل بچوں کی تعداد ایک سو تین ہے جو سب مفت تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔یہاں داخل ہر بچے کے لئے یونیفارم ، کتابوں ، سٹیشنری کے سامان کا بندوبست چودھری محمد صادق کے ذمے ہے۔یہاں پڑھانے والی آٹھ معلمات اور ایک آیا کی تنخواہ کا انتظام بھی اسی نیک نفس کو کرنا ہوتا ہے ۔
بچپن ہی میں یتیم ہونے والے چودھری صادق خود تو بوجوہ مڈل سے آگے نہ پڑھ سکے ۔مگر علم کی اہمیت ہمیشہ ان کے دل میں موجود رہی ۔
اس محرومی کا ازالہ کسی حد تک تو انہوں نے اپنے بچوں عبیداللہ چودھری ، عتیق اللہ چودھری (مرحوم )، کلیم اللہ چودھری ، رخشندہ اور فرخندہ کو اعلیٰ تعلیم والا کردیا ہے مگر وہ کم وسائل کے باوجود اس سے کہیں بڑھ کر کردار ادا کرنے کے خواباں تھے ۔
انہیں ایسا کرنے کا اس وقت بھرپور موقع ملا جب نامور کالم نگار اور انسان دوست شخصیت منو بھائی ان کے گاں میں کوشش پرائمری سکول کی تقریب میں آئے ۔اس روز پھٹے پرانے کپڑے پہنے گاں کے بچوں نے علامہ اقبال کی نظم ، لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری ، پڑھی تو چوہدری صادق کی آنکھوں سے تشکر اور خوشی کے آنسوں رواں ہوگئے ۔ انہیں اپنا بچپن یاد آرہا تھا ، جب وہ روزانہ تین کلومیٹر پیدل چل کر قلعہ دیدار سنگھ پڑھنے جایا کرتے تھے مگر یہ نصف صدی پہلے کی بات تھی۔

چار بھائیوں میں تیسرے چودھری صادق نے جنم لیا تو غریب زمیندار گھرانے میں لیا مگر خدا نے انہیں خطاطی کی ایسی زبردست صلاحیت عطا کی جو آگے چل کر ان کے لئے عزت ، شہرت اور وسائل کی فراہمی کا ذریعہ بن گئی ۔ انہیں عمدہ خطاطی پر زندگی میں پہلا انعام وزیرآباد کا چاقو ملا ۔اس شعبے میں قاری ظہور احمد ان کے استاد ہیں ۔
معروف کیلی گرافر مشتاق احمداسی قاری ظہور کے بیٹے ہیں ۔ اپنے فن میں پختگی کے بعد پہلا کام کوہستان پنڈی کے لئے کیا ۔1965ءمیں لاہور آکر انہوں نے کچھ عرصہ کوہستان بعدازاں مساوات اور زندگی کے لئے خطاطی کی وہ نوائے وقت میں دس سال ملازم رہے ۔ اس دوران انہوں نے کو لہو کے بیل کی طرح شدید محنت کی اور چھ ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں میں ملازمت کی جس کے صلے میں انہوں نے ناصرف لاہور میں اپنا ذاتی گھر بنا لیا بلکہ اپنے بچوں کو بھی اعلیٰ تعلیم دلائی ۔ بچے جوان ہوئے اور مالی مسائل سے فراغت ملی تو چودھری صادق کے اندر گاں جاکر زندگی گزارنے کی خواہش پیدا ہوئی ۔انہی دنوں ایک المناک واقعہ ہوا ۔ کسی جنونی نے ان کے عزیز بچے کو زیادتی کے بعد قتل کردیا ۔ صدمہ کچھ کم ہوا تو زندگی میں کچھ کرنے کے خواہش مند چودھری صادق نے گاں میں سکول بنانے کا اعلان کردیا ۔ کلاسز کا آغاز تو پہلے دن داخلے کے لئے ستر بچے آئے دو معلم بچیوں کی مدد سے پڑھائی کا آغاز ہوا بچے بچیاں بڑھے تو کمرے تنگ ہوئے قول کے کھرے اور دھن کے پکے چودھری صادق نے دوستوں سے تعاون کی اپیل کی ۔ جس پر منو بھائی نے وقفے وقفے سے پانچ کالم لکھ کر اپنا حصہ ڈالا ۔ ان کی ترغیب پر دسیوں لوگوں نے مالی اوراخلاقی تعاون کا یقین دلایا۔ سکول کی دو منزلہ عمارت تعمیر ہوئی، ساتھ ہی ضروری سٹاف بھی بھرتی کیا گیا ۔ چوہدری صادق کے بقول منو بھائی کے کالم کے بعد مجھے اتنے فون اور خط موصول ہوئے کہ لگتا تھا کہ اس سکول کے بطن سے تو ایک یونیورسٹی بنے گی مگر اب تو سکول چلانا ہی ایک مسئلہ بن گیا ہے ۔ انہی دنوں شاید کوئی تحریر پڑھ کر امریکی سفارت خانے نے اپنا ماہانہ پرچہ ،خبر و نظر بھیجنا شروع کیا ۔ چودھری صادق نے رسالے کے مدیر کو خط لکھا ، جناب ! آپ کے رسالے سے آٹھ معلمات اور آیا کا پیٹ نہیں بھرتا ۔ ساڑھے تین سال سے سو روپے مانگ کر کام چلا رہا ہوں ۔ آپ سکول کی مالی مدد نہیں کرسکتے تو براہ کرم رسالہ بھی نہ بھیجا کریں ۔
اس وقت عملے کی تنخواہ اور بلوں وغیرہ سمیت کوشش سکول کے ماہانہ اخراجات بیس ہزار کے قریب ہیں ۔بچوں کے لئے یونیفارم ، کتابوں، سٹیشنری کی مفت فراہمی کے علاوہ ہے ۔ چوہدری صادق کی کوشش ہے کہ گاں کے بچوں کوعمدہ تعلیم کے موقع ملےں مگر وسائل کی کمی آڑے آرہی ہے ۔ انہوں نے کچھ عرصہ قبل پنجاب ایجوکیشن فانڈیشن کو سکول کی مالی سر پرستی کے لئے درخواست دی ۔ فانڈیشن کے چیئرمین نے سکول کے معائنے کے بعد تعاون کا یقین بھی دلایا مگر ایک سال ہو گیا، اس وعدے کے پورا ہونے کی نوبت نہیں آئی ۔ الٹا ڈائریکٹر نے ایک روز مسلسل فالواپ سے خفا ہو کر کہا : چودھری صادق ! آپ بے صبرے ہوتے جارہے ہیں ۔

ہمارے پاس آپ ہی کی طرح چار ہزار اور بھی درخواستیں ہیں ۔ آپ میرٹ پر آئے تو دیکھ لیں گے ۔ ویسے پہلے ہمارا خیال تھا مگر اب شایدوفاقی وزارت تعلیم کے ایک افسر نے بھی سکول کا دورہ کیا مگر نتیجہ وہی ، ڈھاک کے تین پات، نکلا۔ چودھری صادق ذاتی تعلقات سے سکول چلا تو رہے ہیں مگر ان کے نزدیک یہ مستقل حل نہیں ۔ ان کی خواہش ہے کہ فروغ تعلیم سے واقعتا مخلص کوئی مخیر شخصیت یا تیظیم ان کا ہاتھ بٹائے تاکہ تاریکی سے روشنی کی طرف سفر جاری رہے۔ وہ کہتے ہیں سو روپے ماہوار سے کسی خاندان کا پیٹ تو نہیں بھر سکتا مگر اس سے ایک بچہ ضرور پڑھایا جاسکتا ہے۔ لوگ اپنے بچوں کو پانچ پانچ ہزار کے کھلونے ضرور لے کر دیں مگر وہ ان بچوں کو بھی اپنا سمجھیں جو چھ ہزار روپے میں پہلی سے پرائمری تک تعلیم حاصل کر سکتے ہیں ۔
پڑھا لکھا پنجاب کے لئے سرکاری مہم چلی تو چودھری صادق نے اس کی اصل حقیقت ایک اخبار کو لکھ کر بھیجی۔ جس پر اشتہاری مہم کی خالق ایجنسی نے نہ صرف انہیں بلکہ ان کی بیٹی کو بھی اپنے ہاں نوکری سے نکال دیا۔ منو بھائی ، جاوید چودھری ، حمید اختر ، ارشاد احمد حقانی اور عبد القادر حسن کی تحریروں کے مداح چودھری صادق کے پسندیدہ سیاستدان عمران خان ہیں۔ ان کے خیال میں عمران خان وہ شخص ہے جس کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں ۔
اپنے جواں سال بیٹے عتیقاللہ چودھری کی وفات پر آبدیدہ رہنے والے چودھری صادق زندگی کے آخری سال گاں کی کھلی آب و ہوا میں گزارنے کے خواہش مند ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ انہیں اپنے قائم کردہ سکول میں داخل بچوں کو خطاطی سکھانے کا موقع ملے ۔لگتا یہی ہے کہ وہ بڑے شہر کی تیزرفتار زندگی اور افراتفری سے اکتا چکے ہیں ۔ اس لیے اب کوشش سکول کے لئے وسائل کی مستقل فراہمی اور ذہنی یکسوئی ہی ان کی اصل ترجیح ہے ۔