Twitter response:

مستقبل کی راہیں

مستقبل کی راہیں روشن کرنے کی عبادت

کرکٹ کے نمایاں ہندوستانی بلے باز کھلاڑی ٹنڈولکر نے گزشتہ روز بنگلہ دیش کے مقابلے میں کھیلتے ہوئے سینکڑے رنز کا سینکڑا پورا کر لیا انہوں نے 1989 میں 16 سال کی عمر میں کرکٹ کھیلنا شروع کیا تھا اور 39 سال کی عمر میں سنچریز کی سنچری پوری کی 99 کی سنچری سے 100 ویں سنچری تک پہنچنے اور عالمی ریکارڈ قائم کرنے میں ایک سال کا صبر آزما انتظار کرنا پڑا۔ پاکستان کی قومی سیاست میں قومی اسمبلی اور سینٹ کے مشترکہ پارلیمانی سالانہ اجلاس میں پانچویں بار خطاب کرنے کا نیا ریکارڈ صدر آصف علی زرداری نے قائم کیا ہے اور میرے خیال میں بہت ہی معمولی عوامی سطح پر کوئی ریکارڈ قسم کا کارنامہ میرے دوست اور ملک کے معروف خوشنویس چوہدری محمد صادق نے بطور خدمت خلق تعلیم کے میدان میں سر انجام دیا ہے جو کہ قلعہ دیدار سنگھ ضلع گوجرانوالہ کے نواحی گاں نواں پنڈ میں کھیت مزدوروں کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے والے کوشش سکول کے بانی اور سرپرست بھی ہیں نواں پنڈ قیام پاکستان سے پہلے قلعہ سردار سنگھ جھنڈا کہلا تا تھا جہاں کی ساری زمین جھنڈا سنگھ کی ملکیت تھی اور یہاں کے سارے لوگ اس کے مزارع تھے قیام پاکستان کے بعد ہندوستان کے تاریکین وطن نے یہ زمینیں اپنے نام الاٹ کرالیں اور یہاں کے سارے لوگ مزارعے کے مزارعے ہی رہ گئے کہ جاگیردار اور بڑے زمیندار ان کی تعلیم اور انکے بچوں کی بہتری کے منصوبے پر غور نہیں کر سکتے کیوں کہ تعلیم غریب کسانوں اور کھیت مزدوروں کو اچھے اور برے نیک اور بد منفی اور مثبت میں تمیز سیکھاتی ہے اور ان میں بغاوت کے جذبات پیدا کرتی ہے اور وہ غلامی کی زنجیریں توڑنے کی کوشش کرتے ہیں ۔غلامی اور مجبوری کے حالات سے ابھرنے والے چوہدری محمد صادق نے اپنے خوش نویسی یعنی خطاطی کے فن سے فائدہ اٹھاتے ہو ئے اپنی شبانہ روز محنت کی کمائی سے اپنے بچوں اور بچیوں کو اپنے وقت کی بہترین تعلیم حاصل کرنے کے قابل بنایا اور پھر اپنے گاں کے غریب کسانوں کاشتکاروں اور کھیت مزدوروں کے بچوں اور بچیوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے انہیں تعلیم دلانے کی کوششوں کا انتظام کیا اور اس سلسلہ میں مفت تعلیم کی فراہمی کے لئے نواں پنڈ میں اپنے ذاتی رہائشی گھر کو مفت تعلیم فراہم کرنے والے کوشش سکول میں تبدیل کر دیا یہ حقیقت میرے لئے قابل فخر ہے کہ اس کوشش سکول کا افتتاح چوہدری محمد صادق نے میرے ہاتھوں سے کر وایا آج یہ سکول دو کمروں سے 10 کمروں میں اور تین برآمدوں میں ترقی کر گیا ہے اور یہاں مفت تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد 114 سے بھی تجاوز کر گئی ہے کو شش سکول 8 جماعت تک تعلیم دینے کے لئے منظور کیا گیا ہے اور اس سال اس سکول سے اپنی تعلیم کا آغاز کرنے والے بچے اور بچیاں ساتویں جماعت تک پہنچ چکی ہیں اور کمپیوٹر کی جدید تعلیم حاصل کر رہی ہیں ۔محرومیوں ناداریوں اور غربتوں میں لتھڑے ہوئے اس ماحول کو لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری جیسے ترانوں کی گونج کے ماحول میں تبدیل کرنا کوئی معمولی کام نہیں ہے ،ایک نمایاں قابل قدر بلکہ قابل تقلید فریضہ ہے جو وطن عزیز کے محمد صادق جیسے لوگ ہی اداکر سکتے ہیں جو تعلیم کو سب سے بڑی عبادت سمجھتے ہیں اور صدقہ جاریہ کا درجہ دیتے ہیں ۔کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ چھ سات سالوں میں اپنے بہت ہی پیارے اور نیک دل بیٹے کی اچانک موت جیسے متعدد صدمات سے گزرنے والے چوہدری محمد صادق معمول سے کچھ زیادہ ہی تھکاوٹ محسوس کررہے ہیں مگر انکی خدمت خلق کے جذبات میں کوئی کمی نہیں دکھائی دیتی انہیں افسوس ہوتا ہے کہ اچھی خاصی گزراوقات کرنے والے لوگ بھی اپنے بچوں کو مفت تعلیم دلانے پراسرار کرتے ہیں اور اپنے غریب بھائیوں کے بچوں کو تعلیم دلانے کے لئے کچھ خرچ کرنے پر تیار نہیں ہوتے یعنی چوہدری محمد صادق کے تعلیمی مشن کو آگے بڑھانے میں ان کی مدد نہیں کرتے جبکہ دیار غیرمیں محنت مزدوری کرنے اور روزگار کمانے والے بعض لوگ چوہدری محمد صادق کی مالی مدد کرتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ غریب بچوں اور خاص طور پرغریب بچیوں کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنے اور انکے لئے اپنے معاشرے کو ترقی دینے اور مہذب بنا نے کے لئے پورے ملک میں تعلیمی اداروں کے جال بچھائے جائیں تاکہ چراغ سے چراغ روشن ہوں اور                                                                            پہئے سے پہیہ چلے اور قومی ترقی اور خوشحالی کی راہیں روشن ہوں اور یہ روشنی برقرار رہے اور روشن تر ہوتی چلی جائے اور اندھیروں پر غالب آجا ئے ۔

8مارچ 2012ءروز نامہ جنگ