Twitter response:

کچھ اور صادقوں کی ضرورت ہے

کچھ اور صادقوں کی ضرورت ہے

میرے ایک پرانے خوش نویس ساتھی چوہدری محمد صادق ضلع گوجرانوالہ کے مشہور قصبہ قلعہ دیدار سنگھ سے ڈیڑھ کلومیٹر جنوب کے ایک گاں نواں پنڈ کے رہنے والے ہیں مگر یہ پنڈ نواں تو نہیں ہے بہت پرانا ہے اور کبھی قلعہ سردار جھنڈا سنگھ کہلاتا تھا بلکہ قیام پاکستان تک اسی نام سے جانا جاتا تھا یہاں کی تمام زرعی زمینیں سکھوں کی ملکیت تھی اور سب لوگ ان کے مزارعے تھے یہ تمام سکھ لین لارڈقیام پاکستان کے بعد اپنے لینڈ یہاں چھوڑ کر ہندوستان چلے گئے اور لینڈ پر نئے لارڈز کا قبضہ ہو گیا ۔تو مزارعین بے دخل اور بے روز گار ہو گئے یہ زراعت پیشہ لوگ کھیتی باڑی کے سوا اور کچھ کرنا نہیں جانتے تھے چنانچہ دانے دنکے کی تلاش میں دور دراز کے علاقوں میں اڑجاتے ہیں مگر شام ڈھلے واپس  بچوں کے آشیانوں میں لوٹ آتے ہیں اور انکے لئے کچھ چوگا بھی لے آتے ہیں میرے خوشنویس ساتھی چوہدری محمد صادق کو جنہیں میں خوش نصیب بھی کہتا ہوں چار نسلوں سے آباد لوگوں کی نئی نسل کی فکر ہے جس کو پیدل چل کر قلعہ دیدار سنگھ کے سکولو ں میں پڑھنے کے لئے جا نا اورآنا پڑتا ہے وہ اپنے گاں کے بچوں اور بچیوں کے لئے نواں پنڈ میں ایک پرائمری سکول بنانا چاہتے ہیں اپنے گا ں سے ملحقہ چوہدری محمد صادق کا 16مرلے کا اپنا کارنر پلاٹ ہے جسکی انہوں نے سات فٹ اونچی چار دیواری بھی تعمیر کروائی ہے وہ اپنے ملکیتی اس پلاٹ کو جسکی ملکیت دو لاکھ روپے سے کم نہیں ہے اس مجوزہ پرائمری سکول کے لئے وقف کرنا چاہتے ہیں مگر اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے چناچہ انکی اس خواہش تجویز کی تکمیل کے لئے انہیں کچھ مخیر حضرات اداروں یا تنظیموں کے تعاون کی ضرورت ہے جو اس پلاٹ پر دو کمرے تعمیر کردے اور دو لیڈی ٹیچروں کی تعیناتی کے ساتھ اس سکول کو چلائیں باقی ماندہ خرچہ دو لاکھ روپے سے زیادہ نہیں ہے ۔خوش نویس چوہدری محمد صادق کو میں خوش نصیب اس لئے بھی کہتا ہوں کہ انہوں نے صحیح معنوں میں بلکہ لفظی معنوں میں اپنی ساری زندگی اپنے دس انگلیوں بلکہ ایک ہاتھ کی پانچ انگلیوں کی کمائی سے گزاری ہے ۔اور اس کمائی کے ذریعے اپنی نیک اولاد کو تعلیم دلواکر اچھے خاصے روزگار کے قابل بنایا اور انکے لئے لاہور میں ایک معقول رہائش گاہ بھی تعمیر کی ہے اور خو ش نصیبی کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کی طرح اپنے گا ں کے بچوں کو بھی زندگی کے عملی میدان میں کامیاب ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں اور اس سلسلہ میں اپنے حصے کا صدقہ جاریہ بھی اداکررہے ہیں وہ اس رقبے پر مولیاں گاجریں اور گوبھی بھی کاشت کر سکتے ہیں مگر انہوں نے یہاں تعلیم کاشت کرنے کا فیصلہ لیا ہے تا کہ چراغ سے چراغ جلتے چلے جائیں مستقبل کے والدین زیادہ تعلیم حاصل کرنے والی اولاد پیدا کریں جو بہتر سوچ اور فکر کو جنم دے مجھے یقین ہے کہ ایسے صادق جذبے رکھنے والے چوہدری محمد صادق ہر شہر ہر گاں اور قصبے میں موجود ہیں جو اپنے صادق جذبوں کو عملی صورت دینے کے لئے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ سکتے ہیں ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں
اور بہتر مستقبل کی آبیاری کا کام اپنے علاقے کے بچوں اور بچیوں کے تعلیم و تربیت کے انتظامات کو بہتر بنانے سے شروع کر سکتے ہیں میں ایسے بہت سے صادق جذبے رکھنے والے صادقوں کو ذاتی طور پر بھی جانتا ہوں جو اس میدان میں کام بھی کر رہے ہیں ان میں میرے آبائی شہر وزیرآباد کے نواحی شہر سوہدرہ کے لخت حسنین بھی ہیں جو کہ ایک عالمی فلاحی تنظیم مسلم ہینڈز کے سربراہ ہیں اور دنیا کے مختلف ممالک کے علاوہ پاکستان میں بھی تعلیمی اور تربیتی ادارے چلا رہے ہیں مجھے امید ہے کہ وہ اور ان جیسے دیگر بہت سے ادارے پاکستان کے محمد صادقوں کی خواہشوں اور تجویزوں کی تکمیل کے لئے میدان عمل میں آسکتےہیں میرے دوست اور ساتھی محمد صادق کا پو سٹل ایڈریس 127 جی بلاک گلشن راوی سکیم لاہور ہے اور ٹیلی فون نمبر 7415310ہے جبکہ انکے ہمراہ چلنے والا فون نمبر 03334216802 ہے ۔

7دسمبر 2001ء روز نامہ جنگ