Twitter response:

کوشش سکول

کوشش سکول

تحریر آصف بٹ
گوجرانوالہ کے مشہور قصبہ قلعہ دیدار سنگھ سے ڈیڑھ کلومیٹر جنوب کی سمت ایک گاں ’نواں پنڈ‘ واقع ہے۔مگر یہ پنڈ نواں نہیں بہت پرانا ہے۔اور کبھی قلعہ سردار جھنڈا سنگھ کہلاتا تھا اور قیام پاکستان تک اسی نام سے جانا جاتا تھا ۔گاں کی آبادی اس وقت پچاس سے زیادہ گھرانوں پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر گھرانے میں دو سے تین خاندان رہائش پذیر ہیں ۔خاندان کے ہر شادی شدہ جوڑے کے چار تا چھ بچے ہیں ۔ جن حالات اور ماحول میں یہ بچے پرورش پا رہے ہیں وہ ایک بھیانک اور تاریخ مستقبل کے اندیشے لیے ہوئے ہیں۔گاں کے بچوں کے پڑھنے کے لیے ڈیڑھ کلومیٹر دور قلعہ دیدار سنگھ کے سکول میں جانا پڑتا ہے ۔ اور باقی بچے سارا دن گوبر کے ڈھیروں پر کھیلتے رہتے ہیں۔ چوہدری محمد صادق اسی گاں کے باسی اور چار نسلوں سے آباد ان لوگوں کی نئی نسل کی فکر ہے۔جس کو پیدل چل کر قلعہ دیدار سنگھ کے سکولوں میں پڑھنے کے لیے جانا اور آنا پڑتا ہے ۔ چوہدر محمد صادق ایک خوبصورت ، خوش نویس انسان ہیں۔

ساری زندگی اپنی محنت سے روزی کمائی اور اس کمائی سے اپنی اولاد کو تعلیم دلوا کر اچھے خاصے روزگار کے قابل بنایا ہے۔ یہ نیک بخت انسان اپنے بچوں کی طرح اپنے گاں کے بچوں کو بھی زندگی کے عملی میدان میں کامیاب ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔اور اس سلسلے میں اپنے حصے کا صدقہ جاریہ بھی ادا کر رہے ہیں۔ چوہدری محمد صادق اپنے گاں کے بچوں اور بچیوں کے لیے نواں پنڈ میں ایک پرائمری سکول بنانا چاہتے ہیں گاں میں ان کا 14 مرلے کا اپنا کارنر پلاٹ ہے جس کی اُنہوں نے سات فٹ اُنچی پختہ چار دیواری بھی تعمیر کروائی ہے ۔ وہ اپنے ملکیتی پلاٹ کو جس کی مالیت دو لاکھ سے کم نہیں ۔اس مجوزہ پرائمری سکول کے لیے وقف کرنا چاہتے ہیں اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کر سکتے چنانچہ ان کو اپنی خواہش اور تجویز کی تکمیل کے لیے مخیر حضرات اور اداروں کے تعاون کی ضرورت ہے جو اس پلاٹ پر چند کمرے تعمیر کر کے اور لیڈی ٹیچر کی تعیناتی کے ساتھ اس سکول کو چلائیں ۔چوہدری محمد صادق اپنے رقبے پر مولیاں ، گاجریں ، اور گوبھی ، بھی کاشت کر سکتے تھے ، لیکن اُنہوں نے یہاں تعلیم کاشت کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاکہ چراغ سے چراغ جلتے چلے جائیں ۔مستقبل کے والدین زیادہ تعلیم حاصل کرنے والی اولاد پیدا کریں جو بہتر سوچ اور فکر کو جنم دے ۔

چوہدری محمد صادق کا کہنا ہے کہ میں نے انتہائی کوشش کی کے میرے گاں میں چھوٹے بچے اور بچیوں کے لیے ایک پرائمر ی سکول قائم ہو جائے ۔ لیکن حکومتی حلقوں کی طرف سے ان کی تجویز کو پذیرائی نہ مل سکی چنانچہ اُنہوں نے خود ہی فیصلہ کیا اور اللہ کے فضل و کرم سے 8 ستمبر 2003 کے عالمی یوم خواندگی کے دن صبح ساڑھے سات بجے ان کے ذاتی مکان میں ستر بچوں نے لب پے آتی ہے دعا ءبن کے تمنا میری دعاء پڑھی اور یوں ’کوشش سکول‘ کے نام سے پرائمری تک جماعتوں کا آغاز کر دیا گیا۔اس وقت کوشش سکول میں 95 بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ سکول میں داخلہ فیس ہے نہ ماہانہ فیس تعلیم بالکل مفت …..غربت دور کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کے جہالت اور نا خواندگی ختم کی جائے ۔ سو روپے سے ایک خاندان کا پیٹ نہیں بھر سکتا لیکن سو روپے ماہانہ سے ایک بچہ پڑھ لکھ کر یقینا اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکتا ہے ۔ روزانہ ہزاروں‘ لاکھوں روپے برباد کرنے والے اگر اپنے ملک کے غریب لوگوں کے بچوں کی تعلیم پر خرچ ہونے کے لیے ماہوار ایک سو روپے بھی قربان کر سکیں تو چند سالوں میں ملک اور قوم کی حالت میں خوشگوار تبدیلی آسکتی ہے ۔

وطن عزیز میں ایسے نیک دل لوگوں کی کمی نہیں۔ جن کے لیے اپنی نیک کمائی سے ایک سوروپے ماہوار اس کارخیر میں خرچ کرنا کو ئی مسلہ نہ ہوگا ۔ایسے نیک دل انسانوں کے لیے چوہدری محمد صادق کا ڈاک کا پتہ 127۔جی بلاک ‘گلشن راوی لاہور اور موبائل نمبر 03334216802 ہے۔

19ستمبر2004 روز نامہ نوائے وقت لاہور