Twitter response:

کوشش پرا ئمری سکول

کوشش پرائمری سکول

ستمبر 2003 کا دن پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی سرکاری طور پر یعنی رسمی طور پر ’یوم خواندگی ‘ کے طور پر منایا گیا۔مگر معلوم نہیں کے اس یوم خواندگی نے ملک کے اندر موجود جہالت کے اندھیروں میں علم و آگاہی کے کتنے چراغ روشن کیے لیکن میرے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ ۔ میرے ایک محنت کش ساتھی اور عزیز دوست چوہدری محمد صادق نے 8 ستمبر کو اپنے گھر میں معصوم بچوں کی مفت تعلیم کا پرائمری سکول کھول کر عملی طور پر ’یوم خواندگی ‘منایا ۔چوہدری صادق کے لیے یہ روحانی سکون حاصل کرنے کا سب سے بڑا اور قیمتی لمحہ تھا کے ان کے گھر کے صحن سے ’کوشش پرائمری سکول ‘کے ستر بچوں اور بچیوں کے منہ سے یہ دعاءصبح ساڑھے سات بجے سنائی دے رہی تھی کہ لب پے آتی ہے دعا بن کے تمنا میری زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری چوہدی محمد صادق لکھتے ہیں ’تحریر منو بھائی ! آپ دو مرتبہ اپنے کالموں میں میرے گاں نواں پنڈ قلعہ دیدار سنگھ ضلع گوجرانوالہ میں بچوں کے پرائمر ی سکول کے اجراءکی ضرورت پر روشنی ڈال چکے ہیں لیکن کسی بھی کان پر کوئی جوں نہیں رینگی ،

غریب عوام کے ووٹوں سے اقتدارکی کرسیوں تک رسائی حاصل کرنے والوں نے بھی کوئی توجہ نہ دی جبکہ میرا ایک قریبی عزیز دس سالہ عدنان ایسی ہی غفلت اور عدم توجہی کی وجہ سے اپنی جان درندگی کا شکار ہو کر کھو بیٹھا ہے۔ اور آخر کار میں نے خود یہ اپنے گھر میں اس سکول کا آغاز کر دیا کے بقول آپکے غریب لوگ ہی غریبوں کے کام آسکتے ہیں۔‘’آپ نے سات دسمبر 2001 کے گربیان کا عنوان دیا تھا کہ’ کچھ اورصادقوں کی ضرورت ہے‘تو منو بھائی میں نے 8 ستمبر 2003 کو کسی اور صادق کی مدد کے بغیر ہی اپنے علاقے کے لوگوں کی یہ ضرورت پوری کرنے کی کوشش کا آغاز ’کوشش سکول ‘ سے کر دیا ۔ یقین کریں جب بچے میرے گھر کے صحن میں علامہ اقبال ؒ کہ یہ دعاءپڑھ رہے تھے میری آنکھوں سے آنسوں رواں تھے ان والدین سے ہمدردی کے آنسوں جو مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں ۔اور بچوں کے بارے میں تفکرات نے انہیں وقت سے بہت پہلے بڑا کر دیا ہے۔میرے گھر کے صحن میں جاری ہونے والے کوشش سکول میں داخلہ کی نا کوئی فیس ہے نہ ماہانہ فیس ہے ۔ بیشتر بچوں کو میں نے کتابیں بھی خود خرید کر دیں ہیں اب انشاءاللہ میرے گاں کا کوئی بچہ ان پڑھ نہیں رہے گا۔پڑھ لکھ کر میرے بچوں کی طرح اپنے گھر والوں کا سہارا بنے گا ۔نقدی ، آٹے کا تھیلہ،گھی کا ڈبہ دینے سے غربت دور نہیں ہو سکتی بلکہ اس عمل سے غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ غربت دور کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کے جہالت اور ناخواندگی ختم کی جائے ۔ منو بھائی ! سو روپے سے ایک خاندان کا پیٹ نہیں بھر سکتا لیکن سورپے ماہانہ سے ایک بچہ پڑھ لکھ کر اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکتا ہے اور اپنے گھرانے کا پیٹ بھی بھر سکتا ہے ۔’روزانہ ہزاروں ،لاکھوں ، کروڑوں روپے برباد کرنے والے لوگوں سے میری درخواست ہے کے اگر وہ اپنے ملک کے غریب لوگوں کے بے گناہ ، اور بے قصور بچوں کی تعلیم پر خرچ ہونے کے لیے ماہوار ایک سو روپے بھی قربان کر سکیں تو چند سالوں میں ملک اور قوم کی حالت میں نہایت خوشگوار تبدیلی آجائے گی ۔ جس کا براہ راست فائدہ ان کے اپنی آئندہ نسلوں کو پہنچے گا ۔بیشک آپ اپنے بچوں کو پانچ پانچ ہزار روپے کی کھلونا گاڑیاں خرید کر دیں مگر ان بچوں کو بھی اپنے بچے ہی سمجھیں ۔ کہ جو پانچ چھ ہزار روپے میں زیور تعلیم سے آراستا ہوسکتے ہیں۔وطن عزیز میں ایسے نیک دل لوگوں کی کمی نہیں ہو گی کہ جو اپنی نیک کمائی سے صرف ایک سوروپیہ ماہوار ایک معذور واپاہج بچے کو صحت مند اور تندروست بنا سکتے ہیں کوئی بچہ ان پڑھ ہونے سے زیادہ معذور و آپاہج کیسے ہو سکتا ہے، ایسے نیک دل انسانوں کے لیے چوہدری محمد صادق کا پتہ 127جی بلاک،گلشن راوی لاہور ۔ موبائل نمبر 03334216802اور اکانٹ نمبر 11078-1مسلم کمرشل بنک لبرٹی مارکیٹ برانچ گلبرگ لاہورہے۔

17اکتوبر 2003 روزنامہ جنگ