Twitter response:

جھنڈا سنگھ کا چوہدری صادق

جھنڈا سنگھ کا چوہدری صادق

ٹھنڈی ہوائیں چل رہیں تھی اور سرخ وسفید صحافی تنویر بٹ ۔ 87 کلو وزن رکھنے والا بھاری بھرکم مگر سمارٹ صحافی عظمت عزیز گل بڑھاپے کی دہلیز کو چھونے والا فوٹوگرافر فاروق راقم الحروف، حکیم احمد زید بٹ جھنڈا سنگھ گاں اور اس کے ایک مکین چوہدری محمد صادق کی تلاش میں سر گرداں تھے ۔ مگر نہ گاں  اور نہ چوہدری محمد صادق مل رہا تھا ۔ اسی اثناءمیں قلعہ دیدار سنگھ کی غلہ منڈی پہنچے جہاں عظمت عزیز گل اپنے نیوز ایجنٹ شیخ ہمایوں کو ڈھونڈ لایا جو ہمیں جھنڈا سنگھ گاں لے گیا۔ جھنڈا سنگھ گاں پہنچے تو آبادی کے آخر پر ایک عمارت کے باہر معروف کالم نویس منو بھائی، کارٹونسٹ جاوید اقبال مدیر اردو ڈائجسٹ ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی ، چوہدری محمد صادق سمیت کھڑے تھے ۔ اس سے پہلے کہ وہ سرخ فیتے کو قینچی کی لپیٹ میں لیتے ۔ ہماری گاڑی انکے بالکل قریب پہنچ گئی ۔ فیتا کٹنے سے رہ گیا ۔چوہدری محمد صادق نے فوراً صورتحال بھانپ لی ہماری گاڑی ایک طرف کروائی تینوں صحافی وہیں اتر گئے اور راقم الحروف گاڑی پارک کرکے جب واپس پہنچا تو تینوں صحافی دوست کاروائی ڈلوا کر فیتہ کٹوا چکے تھے ۔خیر عمارت کے اندر سب داخل ہوئے توصحن یونیفارم پہنے بچیوں سے بھرا پڑا تھا ۔اگلی سیٹوں پر لاہور اور گوجرانوالہ کے صحافیوں کو بٹھایا گیا اور تقریب کا آغاز شروع ہو گیا سٹیج سیکرٹری عبیداللہ چوہدری نے تمام آنے والے معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اپنے والد چوہدری محمد صادق کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی ۔70 کی دھائی میں شامل ہونے والے چوہدری محمد صادق نم آلود آنکھوں سے جب سٹیج پر چڑھے تو ہمیں کچھ معلوم نہ تھا ۔ ہم تو صرف منو بھائی کیساتھ ایک سکول کی تقریب کے افتتاح کا سن کر یہاں پہنچے تھے ۔ اب جب چوہدری محمد صادق بولے تو ہم سب حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہوگئے ۔قارئین ۔۔۔۔یہ تو تھی روٹین کی کاروائی جو میں نے من وعن لکھ دی ۔۔۔۔مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ جھنڈا سنگھ سندھ یا بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں کا کوئی گاں نہیں بلکہ گوجرانوالہ سے 30 منٹ کے فاصلہ پر ہے مجھ پر تو حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے جب میں گاں پہنچا ۔جہاں منو بھائی ،ڈاکٹراعجاز حسن قریشی ،اقبال ،چوہدری محمد صادق،عبیداللہ صادق ،تنویر بٹ ،عظمت عزیز گل ،فاروق اور شیخ ہمائیوں کھڑے ہیں وہ جگہ گوبر سے لتڑی پڑی ہے اور انکے ساتھ ایک بھینس ایک کٹے کے ساتھ بندھی تھی چار قدم کے فاصلہ پر گدھوں کی ٹولی ٹکر ٹکر ہمیں دیکھ رہی ہے کہ آج انکے گاں میں یہ ہجوم کیسا ہے ۔قارئین ۔۔۔۔8 ستمبر 2003 کو گندے جو ہڑ پر مٹی ڈال کر جب گاں کی چند معصوم بچیوں نے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی نظم۔۔۔۔لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری پڑھی تو جھنڈا سنگھ کا چوہدری محمد صادق الگ تھلگ بہار کے مہینے میں آنسوں کا ساون بہا رہا تھا ۔کو ئی سمجھ سکتا ہے ۔۔۔ان آنسووں کو ۔۔۔ہے کوئی محسوس کر نے والا ۔۔۔۔بے یار و مدد گار مگر فولادی اعصاب کا مالک ۔۔۔مصمم ارادے والا چوہدری محمد صادق۔۔۔۔جس کا کسی نے ہاتھ نہیں تھاما مگر نام مساعد حالات کے باوجود اس نے تعلیم کی شمع روشن کر دی ۔اے کروڑ پتیو کہاں ہو تم۔کیا صرف غربت اور افلاس کی ماری مائیں ہی چوہدری محمد صادق پیدا کر سکتی ہیں کروڑ پتی ماں کے پیٹ سے کیا صرف ارب پتی پیدا ہو تے ہیں۔۔۔۔تاریخ گواہ ہے ۔۔۔۔۔دنیا میں ۔۔۔اگر کوئی نام زندہ رہے گا تو وہ صرف جھنڈا سنگھ کے چوہدری محمد صادق اور ان جیسے لوگوں کا ۔۔۔جنہوں نے جانداروں کو انسان بنانے کا عزم کیا ۔۔۔۔نا کہ ان دولت کے پجاریوں کا ۔۔۔جنہوں نے فرعون کی پیروی کی اور زیر زمین چلے گئے ۔۔۔۔منو بھا ئی قوم کو آپ پر فخر ہے کہ آپ نے ہم کو ایک عظیم انسان سے روشناس کر وایا ۔۔۔۔محترم اعجاز حسن قریشی صاحب آپ عظیم تر ہیں ۔۔۔۔کہ آپ نے چوہدری صادق کا ہاتھ تھا م لیا۔
اے دولت کے انبار اکھٹے کرنے والو ۔۔۔۔اب بھی وقت ہے چوہدری محمد صادق جیسے لوگوں کا ہاتھ تھام لو ۔۔۔دین اور دنیا تم پر آسان ہو جائیں گے ۔۔۔وگر نہ یہی مال و دولت ۔۔۔۔پگھلا کر تمہارے منہ میں ڈال دی جائے گی اپنے دولت میں سے جھنڈا سنگھ گاں جیسے گاں میں چند سکے بھیج دو اللہ تم سے ضرور راضی ہو گا ۔اور تمہاری بخشش کی امید کی جا سکتی ہے وگرنہ دوذخ تو بنا ئی ہے ۔۔۔۔انبار ۔۔۔۔والوں کے لئے ہے ۔

29مئی2004 روز نامہ گوجرانوالہ ٹائمز