Twitter response:

اظہار محبت

اظہار محبت

آج مورخہ 19 اپریل ’ایک خواہش ایک دعا‘گربیان میں آپکا کالم پڑھا کالم کے آخری پہرے میں آپکی بیماری کا ذکر پڑھا تو مجھے کوشش سکول کی ڈبل سٹوری عمارت 8 کمروں اور تین برآمدوں پر مشتمل جسے میں 12 ستمبر 2005 سے فروغ تعلیم کے لیے وقف کر چکا ہوں لرزتی ہوئی محسوس ہوئی جس عمارت کا معمار بیمار پڑھ گیا ہو وہ عمارت مرہون منت ہے ۔7 اکتوبر 2003 کے گربیان میں چھپنے والے کالم ’کوشش پرائمری سکول ‘کے عنو ا ن سے ۔ منو بھائی آپ نے مارچ 2003کو ووکنشنل انسٹیٹیوٹ لیہ کا دورا کیا اور ایک معذور زیرتربیت لڑکی کا ذکر کیا جو کہ گورنر پنجاب کی ذاتی توجہ کی وجہ سے بے ساخیاں چھوڑ کر اپنے قدموں پر چل رہی ہے اور اپنے پورے خاندان کا سہارہ بن گئی۔منو بھائی کوشش سکول میں 55 سے زیادہ بچیاں اور 75 بچے بھی تعلیم کے بغیراپاہج ہی تھے جنہیں آپکے کالم گربیاں کی بدولت علم کی بے ساکھیاں نصیب ہوئیں جو 8 ستمبر 2003(عالمی یوم خواندگی ) سے بالکل مفت تعلیم کے زیور سے آراستہ اپنے روشن مستقبل کی طرف رواں دواں ہیں۔منو بھائی جس طرح شیر کو اپنی طاقت کا اندازہ نہیں ہو سکتا اسی طرح آپکو بھی قلم کی طاقت کا اندازہ نہیں ۔ 60 سال اک عرصہ بیت گیا ۔ نواں پنڈ کے معصوم بچے بچیاں پیدل چل کر قلعہ دیدار سنگھ کے سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے جاتے تھے ۔ اب آپکے کالم کی بدولت گاں کے بچے بچیوں کا سفر ختم ہوا ۔ اور چھٹی جماعت تک بچیاں اور پانچویں تک بچے مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ منو بھائی اگر آپکو کچھ ہو گیا تو گاں کے بچے بچیوں کا کیا بنے گا ۔ منو بھائی میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور بار بار اپنے آنسوں رومال سے پونچھ رہا ہوں۔مجھ سے لکھا نہیں جا رہا کیوں کے ایک ہفتہ قبل میں اپنے ایک دوست میاں خاں جو ساندہ میں رہائش پذیر ہے اسی بیماری کی وجہ سے بستر پر پڑا ہے کا پتہ لینے گیا۔جس نے اپنی بیماری کی شفاءکے لیے لاہور سے بورے والے کا سفر کیا اور ایک پیر سے روحانی علاج کروارہا ہے۔یعنی پیر بورے والہ میں ہےاورپیر کے موءکل لاہور میں مریض کا دائیاں بازو اور دائیں ٹانگ کا آپریشن کر رہے ہیں۔ واہ میرے خدایا کیا ہو گیا ہے اس قوم کو جو کہ پیروں فقیروں کے چنگل میں جکڑی ہوئی ہے۔منو بھائی یہ سب جہالت کی نشانیاں ہیں۔ شفاءمنجانب اللہ ہے لیکن  یقیناآپ کسی معروف ڈاکٹر کے زیر علاج ہوں گے ۔کوشش سکول کے تمام بچے بچیاں آپکی صحت کے لیے دعاءگو ہیں اللہ تعالیٰ جلداز جلد آپکو صحت کا ملہ عطا فرمائے ۔آمین
آپکا دوست چوہدری محمد صادق
چوہدری محمد صادق بانی ’کوشش سکول ‘کو ان کے بیٹے کی وفات نے قدرتی طور پر بہت زیادہ
جذباتی بنا دیا ہے کوشش کرتا ہوں کے جب بھی ملیں ان کے اندر کی شگفتگی جو کہ بہت ساری ہے باہر لانے کی کوشش کروں ۔ چنانچہ میں نے انہیں بتایا کے برادرم نذیر ناجی میری مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے تو اُنہوں نے حیرت ظاہر کی کہ منو بھائی !تم دماغ اور ذہن کو استعمال کیے بغیر ڈاکٹروں کے مشورے سے جو کالم لکھ رہے ہو وہ تمہارے عام کالموں سے زیادہ دلچسپ اور مزیدار ہوتے ہیں۔تم دماغ اور ذہن واستعمال کرنے سے مستقل طور پر پرہیز کیوں نہیں کر لیتے ۔بالکل ایسے ہی چند سال پہلے میرے پاں میں کوئی ایسی تکلیف ہو گئی تھی کہ مجھے بستر پر دراز ہونا پڑگیا تھا ۔ مجھے ایسی حالت میں دیکھ کر خاں مسعود اللہ خان نے پوچھا تھا کہ اگر تمہارا پاں کچھ عرصہ مزید تکلیف میں رہا تو ’گربیان‘ کس چیز سے لکھوگے؟۔

20اپریل 2007 روزنامہ جنگ