Twitter response:

ہیروں کی تلاش

ہیروں کی تلاش

نواں پنڈ نیا نہیں بہت پرا نا گاں ہے اسکا اصل نام قلعہ سردرار جھنڈا سنگھ ہے اور یہ گوجرانوالہ سے 9 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ۔قیام پاکستان سے پہلے یہ گاں ایک جھنڈا سنگھ کی ملکیت تھا اور گاں کے لوگ اس زمین پر کھیتی باڑی کر تے تھے ۔قیام پاکستان کے بعد ہندوستان سے آنے والوں نے زمینیں اپنے نام الاٹ کرالیں یوں گاں کے لوگ مزارع نہ رہے نہ مالک ۔یہاں ذرائع آمدن محنت مزدوری کے سوا کچھ نہیں ۔غربت کا یہ عالم ہے کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں بچے اپنے والدین کے ساتھ کھیتوں میں منجی کی پیلی لگاتے ہیں اور صبح سے شام تک کی جان لیوا محنت کا صلہ اڑھائی تین سو سے زیادہ نہیں ملتااور جب گندم کی کٹائی کا وقت آتا ہے تو یہ بچے اپنے والدین کے ساتھ گندم کی فصل کاٹتے ہیں تا کہ سال بھر کے لئے آٹے کابندوبست ہو سکے ۔ کچھ لوگ جاگیرداروں کے ڈیروں پر کھیتی باڑی کا کام کرتے ہیں ان میں سے اکثریت ایسے لوگ ہیں جو بیٹیوں کی شادی کے لئے جاگیردار سے قرض لیتے ہیں اور پھر عمر بھرملازمت کر کے وہ قرض چکاتے رہتے ہیں یہ محض 50 ہزار یاایک لاکھ ایڈوانس کے عوض خود کو گروی رکھ دیتے ہیں اور اس وقت تک غلامی کرتے ہیں جب تک کوئی دوسرا جاگیردار انکا ایڈوانس ادا کر کے انہیں اپنے پاس نہیں لے جاتا اس طرح وہ غریب ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ ایک جاگیردار کی پاں کی ٹھوکروں سے دوسرے وڈیرے کے قدموں میں گرتا رہتا ہے یہ مسلسل بکتا رہتا ہے جاگیردار انکی مجبوریوں ،دکھوں اور مصیبتوں کی بھرپور قیمت وصول کرتے ہیں

اور انہیں ساری زندگی تھرڈ کلاس شہری سے اوپر نہیں آنے دیتے.جی ہاں آج 14 اگست ہے اور یہ آج کا پاکستان ہے۔ایسے دیہاتیوں کی دوسری بڑی آزمائش انکی اولاد ہوتی ہے یہ غلامی نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے،ان کے بچوں کا بھی کوئی مستقبل نہیں ہوتا یہ غلامی کی زنجیریں پہن کر پیدا ہوتے ہی اور انہیں زنجیروں کے ساتھ قبر میں اتر جاتے ہیں سکول کتابیں کاپیاں اور پنسل ان کا خواب ہوتا ہے اور یہ خواب کم ہی پورا ہوتا ہے مگر سات سال قبل یہاں کے ایک شخص محمد صادق نے ایسے ہی خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کا فیصلہ کیا اور اس فیصلہ کی وجہ دس سالہ عدنان تھا،عدنان ساتھ والے گاں کے سکول جا رہا تھا کہ درندوں نے زیادتی کر کے اسے قتل کر دیا اور لاش کھیتوں میں پھینک دی اس قتل کے بعد محمد صادق نے حکومتوں کو بہت لکھا کہ اسی گاں میں کوئی سکول کھل جائے تاکہ بچوں کو پرخطر راستے سے دوسرے گاں نہ جانا پڑے لیکن حکومت نے نہ سنی میں آپ کو یہاں چوہدری محمدصادق انتہائی حلیم اور خاموش طبع انسان ہیں اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک بیماری کا مسلسل شکار بھی ہیں اور یہ بیماری علم کی بیماری ہے انہیں ہر وقت علم کا درد رہتا ہے یہ خود تو زیادہ نہ پڑھ سکے لیکن یہ دن کو پانچ پانچ پانچ ایڈور ٹائزنگ کمپنیوں میں رات دو بجے تک ایک روز نامے میں کتابت کرتے تھے اور اٹھارہ گھنٹے کی محنت کے عوض جو کماتے تھے وہ اپنی اولاد کی تعلیم پر لگاتے تھے یوں انہوں نے اپنے تین بیٹوں اور دوبیٹیوں کو اعلی تعلیم سے آراستہ کیا لیکن جب وہ سوچتے کہ ان کے گاں میں ایک بھی سکول نہیں توانہوں نے سات سال قبل گاں کے گھر کے ذاتی کمرے سے سکول کا آغاز کر دیا اب مسئلہ اسے چلانے اور بچوں کی کتابوں اور اسٹیشنری اور اساتذہ کی تنخواہوں کا تھا اور نیت صاف اور مقصد واضع ہو تو مشکلات کی گرہیں کھلتی جاتی ہیں ،قافلہ چل پڑا لوگ ملتے رہے اور آج یہ سکول دس کمروں اور تین برآمدوں پر مشتمل دو منزلہ عمارت کی صورت میں کھڑا مسکرا رہا ہے یہ 114 بچوں کو مفت تعلیم کی سہولت مہیا کر رہا ہے یہ جگہ چوہدری محمد صادق کی اپنی ہے جو انہوں نے مستقل سکول کے نام کر دی ہے یہ سکول آٹھویں جماعت تک رجسٹرڈ ہے اور اسی سال چھٹی کلاس کا اجرا ہوا ہے جسے جلدی ہی آٹھویں کلاس تک بڑھایا جائے گا نام مساعد حالات کے باوجود کمپیوٹر کی ٹیکنیکل تعلیم کا انتظام بھی ہے اور قرآن کی تعلیم بھی دی جا رہی ہے یہاں کل آٹھ فیمیل ٹیچر ہیں جن میں سے ایک قرآن کی تعلیم اور ایک سلائی کڑھائی کا کورس کراتی ہیں تعلیم کتابیں یونیفارم سب کچھ مفت ہے ایک بچے کی تعلیم پر اوسط 400 روپے ماہانہ خرچ آتا ہے bache7 جب کہ گریجو ایڈ ٹٰچر کی تنخواہ پانچ ہزار ہے یہ ٹیچرز قریبی دیہات سے ان بچوں کو تعلیم دینے آتی ہیں جنہیں اگر یہ سہولت ان کے گاں میں میسر نہہوتی تو شاید دوسرے گاں کے سکول جاتے ہو ئے قتل کر دیے جاتے یا پھر کسی جاگیردار کے پاں دبا رہے ہوتے اور یہ سب چوہدری محمد صادق کی اس ایک کوشش کی وجہ سے ہوا جسے میں نے آپ کے سامنے رکھ دیا ہے ۔ہر سال ماہ رمضان آتا ہے تو مجھے درجنوں اداروں کی طرف سے زکوة کی اپیلیں آتی ہیں یہ ادارے کسی نہ کسی حوالے سے فلاحی خد مات سرانجام دے رہے ہو تے ہیں ان میں شوکت خانم کینسر ہسپتال جیسا عظیم ادارہ بھی ہے ایدھی فاﺅنڈیشن جیسی زبردست چیریٹی بھی کاروان علم جیسا تعلیمی سلسلہ بھی اور اخوت جیسی زبردست سماجی تنظیم بھی یہ سب اپنی ا پنی جگہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ شوکت خانم یہ ایدھی یہ اخوت کیا یہ ایک ہی دن میں ہزاروں مریضوں بے سہاروں اور طالب علموں کے سرپر دست شفقت رکھنے کے قابل ہو گئے تھے کیا یہ سب سکریچ سے شروع ہوئے تھے تو کیا ان سب نے بھی محمد صادق کی طرح ایک کمرے ، ایک میز کرسی اورایک ڈاکٹر ایک ایمبو لینس سے اپنی خدمات کا آغاز نہیں کیا تھا ؟ان لو گوں نے محمد صادق کی طرح اپنے سامان اپنے زیور اپنے گھر اور اپنی جمع پونجی کے بیج زمین میں بوئے یہ بیج پودے بنے یہ پودے پھیلتے گئے یہ درخت بنے اور یہ درخت آج ان ہزاروں لاکھوں لوگوں کو سایہ دے رہے ہیں جن کے لئے اس مہنگائی اور بے روز گاری کے عذاب میں روٹی تعلیم اور علاج ایک خواب بن چکا ہے کوشش سکول کھول کر محمد صادق نے ہمارے لئے ایک شاندار مثال قائم کر دی ہے میں گزشتہ ہفتے محمد صادق کی خواہش پر انکا سکول دیکھنے گیا وہاں غریب بچوں کو دیکھ کر خوشی سے میری آنکھیں بھر آئیں اور میں نے وہیں پانچ بچوں کا ایک سال تک خرچ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا میں چاہتا ہوں اس عظیم مشن میں آپ بھی میرا ساتھ دیں مجھے ایسے چند ہیروں کی تلاش ہے جو باقی 109 بچوں اور آٹھ ٹیچرز کا بیڑا اٹھانے کے لئے آگے بڑھیں ۔آپ جتنے بھی بچوں کے ماہانہ یا سالانہ اخراجات کی ذمہ داری اٹھائیں مجھے ای میل کے ذریعہ اطلاع ضرور کر دیں یوں جب بچے پو رے ہو جائیں گے تو میں فیس بک پر آپ سب کو آگاہ کر دونگا یقین کیجئے یہ ہمارا کسی پر احسان نہیں ہوگا یہ ہمارا اپنا وطن اور یہ سب ہمارے اپنے بچے ہیں یہی ٹاٹ سکولوں میں بیٹھنے والے اس ملک کو بچانے کے لئے آگے آئیں گے اور اگر ہم یہاں عزت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں کوشش سکول جیسے فلاحی پراجیکٹ میں آکسیجن پھوکنی ہوگی اور انہیں پار لگانا ہو گا میرے کہنے پر محمد صادق نے ایک ویڈیو ڈاکومنٹری ہیروں کی تلاش تیار کرائی ہے ۔یہ یو ٹیوب پر کوشش سکول لکھ کر دیکھی جا سکتی ہے اکانٹ ٹائٹل کوشش سکول 3329-4 برانچ کوڈ 0652 الائڈ بنک مین بازار قلعہ دیدار سنگھ گوجرانوالہ محمد صادق فون03334216802
www.koshishschool.com
Facebook.com/ammaarchaudhry

14اگست 2011روزنامہ ایکسپریس لاہور