Twitter response:

فکر کا ہے مقام شرح خواندگی اور پاکستان

محترم جناب منو بھائی، ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی صاحب، بابو نذیر احمد صاحب، شاہد شیخ صاحب،نثار احمد صاحب و تمام معزز خواتین و حضرات اسلام علیکم ! کوشش سکول کی دوسری سالگرہ کی تقریب میں شرکت پر میں آپ کا بہت ممنون ہوں کہ آپ اس نفسا نفسی اور افرا تفری کے دور میں تو لوگوں کے پاس سلام دعا لینے کا وقت نہیں اور یہ ہمارے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ آپ سینکڑوں میل کا سفر طے کر کے ہمارے گاں تشریف لائے ۔ طلباءو طالبات اور گاں والوں کے حوصلے بلند ہوئے کہ ہم اکیلے نہیں روشنی کے اس سفر میں ملک سے محبت رکھنے والے خواتین و حضرات اپنے اپنے حصے کی شمع جلائے ہوئے ہمارے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔

ہاں تو میں ذکر کر رہا تھا لوگوں کے پاس سلام دعا لینے کا وقت نہیں ! ایک دن صبح ساڑھے نو بجے میں گلشن راوی سی این جی سٹیشن سے گاڑی میں گیس بھروا رہا تھا کہ مو بائل کی گھنٹی بجی، کہ آپ چوہدری صادق بول رہے ہیں ۔جی! کوشش سکول کی عمارت کے دروازے اور گرل لگ چکے ہیں ۔جی نہیں! اچھا میں دوبارہ فون کروں گا ۔ساڑھے بارہ بجے موبائل کی گھنٹی بجی کہ میں نے آپ کے اکانٹ میں 16 ہزار روپے جمع کر وادیے ہیں ۔آپ کھڑکیاں اور دروازے لگوا لینا ۔میں نے جوابا کہا کہ بھئی آپ پیسے تو دے رہے ہیں لیکن دیکھیں تو سہی کہ یہ کام واقعی ہونے والے ہیں بھی کہ نہیں۔جواب ملتا ہے آپ جو کر رہے ہیں ٹھیک ہی کر رہے ہیں ۔مجھے دیکھنے کی ضرورت نہیں میرا نام آصف ہے میں جدّہ جا رہا ہوں میری فلائٹ جانے والی ہے ۔ خدا حافظ۔

آصف کی تو میں نے ایک مثال دی ہے حقیقت میں جو اپنے ملک سے محبت کرنے والے خواتین و حضرات نے میری اس کاوش پر میرا ساتھ دیاہے اور اپنے جذبات زبانی و تحریراً مجھ تک پہنچا ئے ہیں ان کو اگر میں احاطہ تحریر میں لاں تو ایک کتاب کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور میرا ارادہ بھی ہے کہ اندرونِ و بیرونِ ملک خواتین و حضرات کے موصول شدہ خط پر مبنی ایک کتاب شائع کروں انشاءاللہ
بلا شبہ تعلیم صحت اور روزگار ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن ہمیں بھی معاشرے میں کوئی کردار ادا کر نا ہے ۔ہم اندر رہ کرکب تک جئیں گے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے اپنے آپکو بچانہ پائیں گے۔

مالدیپ شرح خواندگی 99 فیصد سری لنکا 97 فیصد،انڈیا 73 فیصد،اور پاکستان 40 فیصد۔ہمارے ہاں بالغ مردوں اور عورتوں میں سے دو تہائی ناخواندہ یعنی با لکل ان پڑھ۔دس میں سے چار بچے سکول نہیں جا رہے ان میں اکثریت بچیوں کی ہے پاکستان میں ایک تہائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے ۔جنوبی گاں میں ساڑھے پانچ ہزار گاں ایسے ہیں جہاں ایک بھی سکول نہیں ۔یہ گاں لودھراں، جلال پور،میلسی،اچ شریف، پاکپتن، رحیم یارخان ،چولستان، احمد پورشرقیہ، لیاقت پور، ڈیرہ غازی خاں ، راجن پور،جام پور اور روجھان کی تحصیلوں میں واقع ہیں ۔ملائشیااور کوریا تعلیم پر اپنی قومی آمدنی کا چھ تا آٹھ فیصدخرچ کر تا ہے ۔اور ہم 2 فیصد سے بھی کم۔
افسوس کہ ہمارے ہمسائے شرح خواندگی میں ہم سے کہیں آگے نکل گئے اور ہم اندھیرے میں ہی ٹکڑیں مار رہے ہیں ۔حکمرانوں نے تعلیم کو تر جیحاً نمبر ایک مسئلہ نہیں سمجھا حالانکہ ہم اپنے آپکو مسلم ِ اُمہ کا لیڈر سمجھتے ہیں اور قرآن کے ذریعے اقرا بسم ربک الذی خلق کا سبق دیا گیا ہے۔ عمل ہمسائے کر گئے اور ہم وعدے اور دعوے ہی کر تے رہ گئے ۔

اس لیے تو کہتے ہیں عمل کا ایک اونس وعدے کے ایک ٹن سے بھاری ہوتا ہے ۔ملک کے نا خداں نے تشہیر زیادہ کی اور تعمیرکم! مثال کے طور پر کوشش سکول کی دو منزلہ عمارت قلعہ دیدار سنگھ سے نکلتے ہی نظر آتی ہے ۔اب عوام کو بتانے کے لیے اس کی تعمیر سے زیادہ تشہیر پر خرچ کر دیا جائے تو یہ کہاں کی عقل مندی ہے ۔
منزل تشہیر سے نہیں عمل سے قریب آئے گی۔

معذرت چاہتا ہوں راستہ بھول گیا۔موضوع یہ نہیں کہ حکومت کیا کر رہی ہے ۔اصل بات یہ ہے کہ اس ملک نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے اور اب ہمارا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ ہم بھی اس قرض کو اُتاریں اور اس گھن زدہ معاشرے میں کوئی رول ادا کریں ۔اگر ہم میں منو بھائی جیسا بھائی نہیں ہے۔ڈاکٹر اعجاز جیسا اعجازنہیں ہے، بابو نذیر جیسے نذیر نہیں ہیں تو یقین جا نئے ہم اس زمین پر بوجھ ہیں ۔کوشش سکول کی کوششوں میں منو بھائی اور ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے جو رول ادا کیا ہے۔ اُن کا یہ قرض ہم گاں والے تا زندگی نہیں اُتار سکتے منو بھائی نے چار مرتبہ روزنامہ جنگ میں میرے گاں میں سکول کی ضرورت پر کالم لکھے اور ڈاکڑ اعجاز حسن قریشی نے دو مرتبہ اردو ڈائجسٹ میں کوشش سکول کے متعلق مضمون شائع کئے ۔ان دو حضرات نے قلم کے ذریعے عوام کو پیغام دیا کہ آ چراغِ علم جلا چوہدری صادق کی کوششوں میں شامل ہو جا۔

منو بھائی نے جب تیسرا کالم 7 اکتوبر 2003ء کو”کو شش پرائمری سکول” کےعنوان سے لکھا تو اندرون ِ و بیرونِ ملک خواتین و حضرات کے ٹیلی فون کالز کا سلسلہ شروع ہو گیا اور بے شمار خطوط موصول ہوئے جن میں سے ایک صاحب کے خط کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں ۔
اکتوبر 2003 کے اخبار جنگ میں منو بھائی کے کالم میں آپ کے گھر میں سکول کھولنے کی خبر پڑھی۔جزاکاللہ(آگے لکھتے ہیں)سر سیّد احمد مرحوم کے پاس تو گھر بھی نہ تھا اسی لیے انہوں نے خیموں میں ہی سکول کھول لیا آج با وجود کافی مخالفت کے ہندوستان کی ایک بڑی (علی گڑھ یونیورسٹی)۔اللہ تعالٰی آپ کے کام میں برکت عطاءفر مائے اور آپکو بھی سر سیّد احمد کے ساتھیوں جیسے کارکن مہیا کرے اگر میں لاہور میں ہوتا تو ضرور شرکت کرتا اب دعا کرتا رہوں گا کہ اسی مدرسہ سے اقبال، ظفر علی خاں،حسرت موہانی ،عبدالسلام، محمد علی جوہر،
فاطمہ جناح وغیرہ نکلیں ۔جب آدمی پہلا قدم اُٹھاتا ہے تو منزل قریب ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔اللہ تعالٰی آپ کو ہمت و استقامت عطا
فر مائے (آمین)۔مبلغ دس ہزار روپے کا عطیہ ارسال ہے ۔اللہ تعالٰی اسی میں برکت عطاءکریں۔

والسلام
ڈاکٹر ایس -اے-بلگرامی
کراچی

اس طرح میرے پاس 90 ہزار روپے کیش جمع ہو گیا تو میں نے اس امانت سے سکول کی تعمیر شروع کر دی اور آج لاکھوں روپے خرچ ہو چکے ہیں اور مجھے معلوم نہیں کہ یہ کیسے اکھٹے ہوئے آتے گئے اور میں خرچ کرتا رہا اور یہ ذرا بھی نہ سوچا کہ ایک دو سال کی تنخواہیں ہی جمع کرلوں اللہ پر بھروسہ کر کے اس مشن کو جاری رکھا اور آج یہ سب کچھ آپ دیکھ رہے ہیں دو سال کا سفر آپ حضرات کے تعاون سے طے ہو چکا ہے اور انشاءاللہ یہ سفر جاری رہے گا اور ہم سب کی کوششیں ملک سے جہالت دور کرنے میں بار آور ثابت ہوں گی اور میرے گاں نواں پنڈ کے باسی جن کے پاس نہ اپنی زرعی زمین ہے اور نہ ہی کاروبار کے مواقع صرف مزدوری کر کے اپنی زندگی کی گاڑی کھینچتے کھینچتے نڈھال ہو چکے ہیں ان کے بچے بچیاں کوشش سکول میں تعلیم حاصل کر کے انشاءاللہ نا اُمیدی کی دنیا سے چھٹکارا حاصل کر لیں گے اور ایک روشن مستقبل ان کا منتظر ہوگا اور اب نواں پنڈ پورے پاکستان میں واحد گاں ہے جہاں شرح تعلیم 100 فیصد ہے اور یہ سب کچھ مخیّر حضرات کے تعاون سے ہی ممکن پا رہا ہے کیونکہ یہاں تعلیم با لکل مفت ہے ۔

اسلام کی روح سے معاشرے میں بنیادی حقوق کا شعور اتنا وسیع ہے کہ ہر شخص کو چاہیے کہ ان سب انسانوں کے حقوق اپنی ذات پر اور اپنے مال پر محسوس کرے جن کے درمیان وہ زندگی بسر کرہا ہے اور ان کی خدمت کرے تو یہ سمجھ کر کہ وہ ان کا حق ادا کر رہا ہے کوئی احسان نہیں کر رہا۔

اگر کوئی شخص بھوکے کو کھا نا نہیں کھلا سکتا پیاسے کو پانی نہیں پلا سکتا بھٹکے ہوئے کو راستہ نہیں دیکھا سکتا کسی کے دکھ سکھ میں شریک نہیں ہو سکتا اللہ کی دی ہوئی دولت سے غریبوں کا حصہ نہیں نکال سکتا تو اس سے وہ جانور، بھینس اچھی ہے جس کا مالک اسے چارہ ڈالتا ہے اور وہ اس کے بدلے اسے دودھ جیسی نعمت عطا ءکرتی ہے ۔اللہ تعالٰی نے تو ہمیں بہت ساری نعمتوں سے نوازا ہے اور ہمیں چاہیے کہ ان نعمتوں میں محروم لوگوں کو بھی شامل کریں اور ان کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھیں جوشخص اللہ کی دی ہوئی دولت میں محروم لوگوں کو شامل نہیں کر تااس کی ہوس کا کنواں گہرا ہوتاا چلا جاتا ہے اور ایک دن اس کے گردے فیل ہو جاتے ہیں اور اس ہوس کے کنویں کی ساری دولت اس کی زندگی نہیں بچا سکتی۔ابھی چند دن ہوئے میرا ایک ہمسایہ محمد زبیر گلشن راوی میں نمازِ مغرب کے وقت ملا کہتا ہے چوہدری صاحب میں دس دن سے ہسپتال میں رہ کر آیا ہوں ہارٹ اٹیک ہوا تھا اللہ نے کرم نوازی کی بچ گیا۔تو میں نے جواباً کہا کہ اللہ نے تو تجھے زندگی بخش دی اور تونے اللہ کے راستے میں کیا دیا ۔یقین جا نئیے اس کی نظریں نیچی ہو گئیں اور وہ میری نظروں کا سامنا کرنے کی سکت سے محروم ہو چکی تھیں یہی وہ بے حسی اور دنیا وی زندگی کی دلدل ہے ،جس نے امیر امیر تر اور غریب غریب تر کی روایت کو جنم دیا ہے۔

بچہ چاہے بلاول ہاس میں پیدا ہو یا نواں پنڈ کے اسماعیل موچی کے گھر!اس کے سر ،پیر،ہاتھ، پاں،ناک ،کان سب ایک جیسے ہوتے ہیں اور بنیادی تعلیم اس کا حق ہے لیکن افسوس کہ 57 سالہ جاگیردارانہ استحصالی نظام موچی کے اس بچے کو اس کا حق دینے سے محروم رہا ہے۔

اور اس غیر فطری نظام نے موچی کی جھونپڑی میں جلنے والے بلب پر 25 روپے ماہا نہ کا ٹیکہ تو لگا دیا ہے لیکن موچی کے ان معصوم بچوں کے ہاتھ میں کتاب اور بستہ نہیں دے سکا ۔اسماعیل موچی (مرحوم ) کے بارہ بچے بچیاں ہیں ۔جن میں پانچ بچے بچیاں کوشش سکول میں زِیرتعلیم ہیں اور یہ معصوم بچے گرمیوں کی چھٹیوں میں تیز دھوپ اور گرم پانی میں چاول کی فصل یعنی (مونجی کی پنیری ) لگا کر محنت مزدوری کرتے ہیں اور پھر کوشش سکول میں پڑھنے کے لیے بھی آتے ہیں ۔

دسمبر (2004) کو منو بھائی نے اپنے گریباں کا عنوان “کوشش سکول کی بس کا ڈرائیور”دیا یہ کالم پڑھ کر کچھ نئے دوست کوشش سکول کی کوششوں میں شامل ہوئے ایک دن مجھے بابو نذیر احمد صاحب کا فون آیا کہ چوہدری صاحب میں آپ کی کوششوں میں شامل ہونا چاہتا ہوں ،میری خواہش ہے کہ میں سکول کے لیے دو کمرے بنا دوں ۔میرا سفر ختم ہونے کو ہے ۔اللہ تعالٰی جب مجھ سے سوال کریں گے کہ اے بابو نذیر تجھے میں نے اتنی دولت دی اس کا حساب تو دے تو میں کیا جواب دوں گا۔اس نئی تعمیر کا ذکر جب میں نے اپنے بیٹوں سے کیا تو بیٹوں نے کہا کہ ابو جی آپ جتنی بڑی عمارت بناتے جائیں گے اس کے اخراجات میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا آپ اس نئی تعمیر کا خیال دل سے نکال دیں بچے شاید بھول گئے کہ میں ہی اس سکول کو چلا رہا ہوں۔نہیں بھئی!اس کو تو وہ ذاتِ کریم چلا رہی ہے جو پورے کائنات کا مالک ہے وہ لوگوں کے دلوں میں یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ منو بھائی یہ جو شخص تیرے در پے آیا ہے اس کا ہاتھ تھام لے یہ اندھیرے میں اجالا کرنے کی خواہش رکھتا ہے تو منو بھائی اور ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی نے جو اپنے قلم کے ذیعے محب ِ وطن لوگوں کو پیغام دیا ہے کہ آ ہم سب مل کر ملک میں غربت اور جہالت کے اندھیرے دور کریں جس کی ابتداءمیرے علاقے میں کوشش سکول کے ذریعے ہو چکی ہے اورانشاءاللہ یہ روشنی پھیلتی چلی جائے گی اور پاکستان کا شمار ایک دن دنیا میں شرح خواندگی میں 160 ویں نمبر پر نہیں بلکہ پہلے 60 ویں نمبر میں شمار ہوگا انشاءاللہ
اب کوشش سکول کی عمارت میں دو کمروں اور برآمدہ کی توسیع بابو نذیراحمد کی طرف سے عطیہ ہے اور انشا ءاللہ اس نئی تعمیر کی ایک ایک اینٹ بابونزیر احمد کے لیے سکونِ قلب کا باعث ہو گی۔
بابو نذیر احمد کی یہ چھوڑی ہوئی یاد رہتی دنیا تک انکی یاد دلاتی رہے گی ۔میں خداوند تعالٰی سے دُعا گو ہوں کہ اے خداوند کریم کوشش سکول کی کوششوں میں اندرون ِ و بیرونِ ملک خواتین و حضرات کی کاوشوں کو قبول و منظورفرما اور ملک میں غربت اور جہالت کے اندھیرے دور کرنے میں ہماری مدد فرما ۔آمین
آپکی دعاں کا طالب
چوہدری محمد صادق

سر پرست کوشش سکول
نواں پنڈ ،قلعہ دیدار سنگھ ضلع گوجرانوالہ