Twitter response:

ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی

dr.ijaz-quersahi

محترم چوہدری صاحب،منو بھائی اور دیگر معزز مہمانان گرامی، خواتین و بچو السلام علیکم!مجھے یہاں کوشش سکول(نواں پنڈ) آکر بہت خوشی ہوتی ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ گاں کہ غریب بچے ،بچیاں اس سکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو چوہدری صادق کی کوششوں سے یہاں قائم ہوا ہے ۔بدقسمتی سے ہم نے تعلیم کی اہمیت کا احساس ہی نہیں کیا ۔نہ انُ لوگوں نے جو اقتدار میں ہیں اور نہ ہم نے۔اپنے تجربے کی بناءپر کہہ رہا ہوں کہ ہمارے محلے اور گلیوں میں اتنے بچے آوارہ پھرتے ہیں ۔ان کی ماں کو تعلیم دلانے کا احساس ہی نہیں ۔کوئی قوم علم کے بغیر آگے بڑھ ہی نہیں سکتی ۔ہمیں اس بات کا اہتمام کرنا ہوگا کہ ہم اپنے لوگوں کے بچوں کو تعلیم دلانے کا احساس دلائیں۔اوروہ مائیں بہت خوش قسمت ہیں جو اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے سکول بھیجتی ہیں ۔یہ ایک طویل سفر ہے کیونکہ ہمارا ایک طبقہ مسلسل یہ پروگرام بنائے ہوئے ہے کہ قوم جاہل ہے۔اس قوم کو علم کی ہوا نہ لگے تاکہ وہ من مانی کرتے رہیں۔وہ علم کا۔۔اُجالا پھیلنے نہیں دیں گے، لیکن اس ملک کے با شعور طبقوں کوعلم پھیلانے کی پوری کوشش کرنا ہوگی ورنہ ہم بہت پیچھے رہ جائیں گے ۔جانوروں کی سطح پر آگئے ہیں اور اس سے بھی بدتر ہو جائیں گے ۔
میرے نزدیک غربت دور کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ بچوں کو تعلیم دلائیں ۔یہ علم ہے جو طاقت دے گا۔غربت مٹائے گا۔یہ جو آپ کے گھروں میں گوڈے، گوڈے غربت ہے اس سے نجات حاصل کرنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ علم حاصل کرو۔علم کے بغیر غربت نہیں مٹ سکتی۔علم شعور پیدا کرتا ہے۔چوہدری صادق بہت خوش قسمت انسان ہیں کہ انہوں نے اپنے گاں کے بچوں کے لیے ایک بہت ہی عالی شان سکو ل بنا دیا ہے اور وہ اس کے لیے کوشاں ہیں،لگے ہوئے ہیں اور ان کے گاں میں بڑی تعداد میں بچے علم حاصل کررہے ہیں۔
میں اپنی مجبوریوں کی وجہ سے بہت کم باہر نکلتا ہوں ۔لیکن نواں پنڈ کی کشش مجھے کھینچ لاتی ہے۔اور جب بھی چوہدری صادق مجھے یہاں آنے کا کہتے ہیں تو میں کبھی بھی اُن کا انکار نہیں کرتاکیونکہ یہ میرے دل کی آواز ہے۔نواں پنڈ کے بچوں کے لیے ہمارے دروازے کھُلے ہیں۔نواں پنڈ کا کوئی بچہ کسی وقت بھی مالی مدد محسوس کرے گاتوہم اسے چوہدری صاحب کے ذریعے ہر قسم کی مالی مدد فراہم کریں گے تاکہ وہ جب تعلیم حاصل کر کے نکلے تو اپنے پاں پر کھڑا ہو تاکہ باعزت روزی کما سکے ۔
میں چوہدری صاحب کا شکر گزار ہوں، مبارکباددیتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی اس ادارے کو ایک ایسا ادارہ بنائے جو دوسروں کے لیے ایک مثالی ہو۔اور لوگ آکر دیکھیں اور شمعیں جلائیں۔گاں گاں ،قریہ قریہ غیر کاروباری ادارے بنائیں۔کاروباری ادارے تو گلی گلی،محلے محلے میں کھُلے ہوئے ہیں۔جہاں قوم کو بیوقوف بناکر لوٹا جا رہا ہے۔علم کے نام پر لوٹا جا رہا ہے۔کوشش سکول ایک ایسا ادارہ ہے جو اپنا کوئی ذاتی مفاد نہیں رکھتا ۔ایسے ادارے کھولنے کی بڑی ضرورت ہے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالٰی اس نواں پنڈ کے کوشش سکول کو کوشش یونیورسٹی بنائے اور یہاں پڑھنے کے لیے دور دور سے بچے آئیں۔آمین