Twitter response:

کوشش سکول کی بس کا ڈرایَور

کوشش سکول کی بس کا ڈرائیور

پبلسٹی کے شعبے کے معروف خطاط میرے دوست چوہدری محمد صادق ایک درمیانہ درجے کے ابتدائی تعلیمی ادارے کی عمارت کے لان میں اپنے پوتے عمار کی چھٹی کا انتظار کر رہے تھے اور وہاں چند اور والدین بھی اپنے بچوں کو لینے کے لئے آئے ہو ئے تھے ہمارے لوگوں کے لئے زیادہ عرصہ تک خاموشی برقرار رکھنا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہو تا ہے چناچہ انکے درمیان باتیں ہونے لگیں سب سے پہلے چوہدری محمد صادق نے پو چھا کہ اس اکیڈمی میں ایک بچے کے ماہانہ تعلیمی اخراجات کتنے ہو نگے ایک ڈاکٹر صاحب جن کے دو بچے اس اکیڈ می میں داخل ہیں بتایا کہ تقریباً پندرہ سولہ ہزار ماہوار تعلیمی خرچہ ہے چوہدری محمد صادق نے دوسرا سوال کیا کہ کیا کسی غریب محنت کش گھرانے کاکو ئی ذہین بچہ یہاں کی تعلیم حاصل کر سکتا ہے ؟ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ غریبوں کے بچوں کا اکیڈمی میں کیا کام یہ حقیقت چوہدری محمد صادق کو بھی دیکھائی دے رہی تھی۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ بچے اپنے والدین کے ساتھ شاہ خرچی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ان بچوں کو دیکھ کر چوہدری محمد صادق کو اپنے گاں نواں پنڈ قلعہ دیدار سنگھ ضلع گوجرا نوالہ کے وہ بچے یاد آئے جو ان شہری بچوں کے چونچلوں کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے اور پھر باتوں باتوں میں چوہدری محمد صادق نے بتا یا کہ وہ سال 2003 کے 8 ستمبر کے عالمی یوم خواندگی سے کوشش سکول کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ چلا نے کی کوشش میں مصروف ہیں جس کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی جا تی ہے اور ایسے بچوں کی تعداد 133 سے تجاوز کر چکی ہے ۔

وہاں موجود سب والدین یہ سن کر اور دیکھ کر بہت حیران ہو ئے اور ڈاکٹر صاحب نے اپنی حیرت پر قابو پاتے ہو ئے کہا کہ میں تو سمجھا تھا کہ آپ بچوں کے والدین کے ڈرائیور ہیں جو بچوں کو لینے آئے ہیں اور محض وقت گزارنے کے لئے باتیں کر رہے ہیں چوہدری محمد صادق نے کہا میں ڈرائیور ہی ہوں اپنے گاں کے بچوں کا جن کو میں گوبر سے لتھڑی ہوئی گلیوں سے اٹھا کر کوشش سکول کی بس پرسوار کیا ہے جو شروع میں میرے چھوٹے سے دیہاتی گھر کا کمرہ تھا اور وہاں 70 بچوں نے لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری کے ساتھ اپنی تعلیمی زندگی کا آغاز کیا تھا تب سے اب تک میرے علاقے کے بچے اور بچیاں اس بس میں سوار ہو رہے ہیں اور بس چل رہی ہے اورمیں نے صرف سٹیرنگ سنبھالا ہوا ہے اور اس بس کو چلانے اور چلائے رکھنے میں میرے علاقے اور ملک کے نیک دل لوگوں کا بہتر مستقبل کے خواب دیکھنے والی خواتین اور مہذب معاشرے کی خواہش رکھنے والے حضرات کا تعاون حاصل ہے۔بس چلانے کے لئے پٹرول اور ڈیزل کا خرچہ بھی اندرون ملک اور بیرون ملک پاکستانی خواتین و حضرات فراہم کرر ہے ہیں اگر کوشش سکول کی بس کو ایندھن اسی طرح میسر آتا رہا تو انشاءاللہ یہ بس ہر اس گاں میں پہنچے گی جہاں بچوں اور تعلیم کی سہولت بلکہ بنیا دی ضرورت میسر نہیں ہے چوہدری محمد صادق کی ان باتوں پر صرف ڈاکٹر صاحب ہی نہیں وہاں موجود دیگر والدین بھی حیران ہوئے اور ان سے انکی ذاتی زندگی کے بارے میں پوچھنے لگے چوہدری محمد صادق نے انہیں بتایا کہ وہ خوش نویس ہی نہیں بلکہ خوش نصیب بھی ہیں کہ انہیں اپنے قلم اور قلم کاروان کے فن کی کمائی سے اپنے تین بیٹوں اور دو بیٹیوں کو اعلی تعلیم سے آراستہ کر نے کا موقع ملا اور قدرت کی اس فیاضی کے تحت انہوں نے اپنے گاں کے دیگر بچوں کو بھی اپنے ذاتی اولاد سمجھتے ہوئے تعلیم دلوانے کے لئے کوشش سکول کا اجراءکیا اور اس سلسلہ کو علاقے کے 100% بچوں تک پہنچانے کا فیصلہ کیے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ میں اپنے ملک کے ہر صاحب حیثیت اور صاحب دل شہری اور والدین سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے بچے پر اپنی تو فیق کے مطابق خرچ کریں مگر دیہات میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے لوگوں کی اولاد کو بھی اپنی توجہ کا مستحق اور پیار کا حقدار سمجھیں اور کم از کم ایک غریب بچے کی تعلیمی اخراجات کی اضافی ذمہ داری ضرور سنبھا لیں اگر ایسا نہ سوچا گیا تو ملک کے ہر ڈاکٹر کے مقابلے میں سینکڑوں ڈاکو پروان چڑھ رہے ہو نگے جو مستقبل کے ڈاکٹروں ،انجئینروں پروفیسروں اور سائنس دانوں کی زندگی اجیرن کر دینگے کوشش سکول نواں پنڈ قلعہ دیدار سنگھ میں اس وقت سالا نہ امتحان ہو رہے ہیں اور پانچویں جماعت کی بچیاں چھٹی جمات میں داخلے کے لئے دو میل دور پیدل جانے کی بجائے تعلیمی سلسلہ بند کرنے پر مجبور ہونگی اس لئے کوشش سکول کی بس کے آگے ایک تکلیف دہ سپیڈ بریکر آرہا ہے کو شش سکول کو چھٹی جماعت تک بڑھانے کے لئے چوہدری محمد صادق کو ایک گریجوایڈ استانی کی ضرورت ہو گی جسے وہ کم ازکم از تین ہزار روپے ماہوار معاوضہ دینگے یا کوئی اس سلسلہ میں انکی طرف دست تعاون بڑھا سکتا ہے ان سے مکان نمبر 127 جی بلاک گلشن راوی کے پتہ پر مو بائل نمبر 03334216802 پر رابطہ قائم کر سکتا ہے یا براہ راست اکانٹ نمبر 11078-1 ایم سی بی لبرٹی برانچ گلبرگ لاہور میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے ۔

26اکتوبر 2004 روزنامہ جنگ