Twitter response:

اندیشوں کا زہر امیدوں کا تریاق

اندیشوں کازہر امیدوں کا تریاق

آج کالم لکھتے ہوئے بہت دکھ ہو رہا ہے کہ میرے خوشنویس دوست چوہدری محمد صادق سکنہ نواں پنڈ تھانہ قلعہ دیدار سنگھ ضلع گوجرانوالہ کو میرے 24جولائی کے کالم کی ان آخری سطروں نے بہت تڑپایا ہےکہ قیام پاکستان کے وقت شہروں کے کوچوں اور دیہات کی گلیوں میں سوتے تھے اور آج اپنے گھروں کے دروازوں کو اندر سے تالے لگا کر جاگتے رہتے ہیں چوہدری محمد صادق قیام پاکستان کے 15/20 سال بعد تک اپنے گاں کے چوراہے میں کھلی ہوا میں بے فکری کی آرام دہ راتیں گزارنے کا تجر بہ بھی رکھتے اور قیام پاکستان کے 56 سال بعدانہوں نے انکی رفیقہ حیات عزیزوں اور اپنے گھروں کے تمام دروازوں کو اندر سے تالے لگا کر جاگ کر گزاری ہے کیوں کہ اپنے آزاد خودمختار جمہوری وطن کے سماجی حالات نے انکے ہڈیوں کے گودے کے اندر تک خوف اور اندیشوں کے زہر اتار دیے ہیں ۔
چوہدری محمد صادق بتاتے ہیں کہ انکے بھتیجے احسان اللہ کا دس سالہ بیٹا عدنان 19جولائی کو لاپتہ ہو گیا سارا دن اور ساری رات اسکے والدین اور گاں والے تلاش کرتے رہے مگر کچھ سوراغ نہ ملا اگلے روز اتوار 20جولائی کی صبح عدنان کے ہم جماعتوں نے اسکی نگی نعش جوار کے کھیت میں پڑی پائی کسی اخلاق باختہ نے زیادتی کے بعد اسکے آزار بند سے اسکا گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا تھا اور پورے علاقے کے عدم تحفظ کے اندیشوں کا اندھیرا بکھیر دیا تھا ۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں کیوں کہ معمولات کا حصہ ہے کہ ضلعی پو لیس کام سمیت پولیس پارٹی نے متاثرہ گاں کا دورہ کیا ہو گا موقع ملاحظہ ہوا ہو گا ۔
والدین سے اظہار ہمدردی کیا گیا ہوگا تھا نہ قلعہ دیدار سنگھ کو مجرم کی جلدازجلد گرفتاری کی ہدایت کی گئی ہو گی والدین اور گاں کے لوگوں کو یقین دلایا گیا ہوگا کہ مجرم کو عبرت کی مثال بنا دیا جائے گا ۔چوہدری محمد صادق جو اس کارروائی اور کار گزاری کے ساتھ ساتھ ہو نگے بتا تے ہیں کہ 20جو لائی کی رات کو اپنے گھروں کے تمام دروازوں کواندر سے تالے لگانے کے بعد پتہ چلا کہ انسان کو انسان پر اعتبار ایک ہی بستی ایک ہی ملک اور ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کا ایک دوسرے پر اعتماد اور تحفظ کا احساس مقفل دروازوں سے باہر رہ گیا ہے اور یہ خطرہ بھی محسوس ہوا ہے کہ جو معاشرہ جو سماج اورجو بستی ہمارے دلوں کے اندر مر گئی ہے وہ باہر کیسے زندہ رہ سکے گی ؟چوہدری محمد صادق لکھتے ہیں منو بھائی آپ اپنے کالم میں میرے گاں میں بچوں کے سکول کی ضرورت پر روشنی ڈال چکے ہیں جو کسی بھی دل میں روشن نہیں ہوسکی آپ بتا چکے ہیں کہ نواں پنڈ قیام پاکستا ن سے پہلے سکھوں کا گاں تھا اور قلعہ سردار جھندا سنگھ کہلا تا تھا گاں کی آبادی اس وقت پچاس سے زائد گھرانوں پر مشتمل ہے ہر گھرانے میں دو سے تین خاندان رہائش پزیر ہیں ۔خاندان کے ہر شادی شدہ جوڑے کے چار تا چھ بچے ہیں جن حالات اور ماحول میں یہ بچے پرورش پا رہے ہیں وہ ایک بھیانک اور تاریک مستقبل کے اندیشے لئے ہو ئے ہیں گاں کے بچوں کو پڑھنے کے لئے ڈیڑھ کلومیٹر دور قلعہ دیدار سنگھ کے سکول میں جانا پڑتا ہے اور باقی بچے سارا دن گوبر کے ڈھیروں پر کھیلتے رہتے ہیں
اب تو سکولوں میں چھٹیاں ہیں لیکن جب سکول کھلے گا بچے ہر روز عدنان سے ملیں گے کیوں کہ وہ جگہ جہاں سے نعش ملی ہے اس سکول کے راستے میں ہے ان ننھے معصوم ذہنوں سے اس حادثے کو نکالنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوگا ۔منو بھا ئی میرے گاں کے تمام لوگ بچوں کی مائیں باپ اور بہن بھا ئی اور بزرگ آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ ہماری طرف سے ہاتھ جوڑ کر ناظم یونین کونسل ضلعی ناظم فیاض چٹھہ ہمارے ایم پی اے ایم این اے اور وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی سے درخواست کریں کہ ملک کے 11ارب ڈالر کے ذرمبادلہ کے ذخائر میں سے چند سکے نکال کر ہمارے گاں میں بچوں اور بچیوں کا ایک پرائمری سکول کھول دیں جس کے لئے زمین اور عمارت فراہم کر نے میں آپ کے ایک گزشتہ کالم میں پیش کش کر چکا ہوں مگر کسی نے توجہ دینے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی گاں کے والدین چاہتے ہیں کہ انکے بچے اور بچیاں انکی نگاہوں کے سامنے انکے اپنے  گاں میں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کریں امید رکھتا ہوں کہ نواں پنڈ کے چوہدری محمد صادق وہاں کے بچوں کے دیگر والدین کی یہ دست بستہ درخواست متعلقہ حکام اور رہنماں کی توجہ حاصل کر نے میں کامیاب ہو جائے گی ۔اندیشوں کے سفر کا تریاق امیدوں کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے ۔

29جولائی 2003 روز نامہ جنگ