Twitter response:

سات سو گنا منافع کمائے

سات سو گنا منافع کمائیے

دنیا میں کوئی ایسا فارمولا نہیں جو آپ کو 700 گنا منافع کمانے کی ترکیب بتاتا ہو ،لیکن ایسا فارمولا رب اکبر کی کتاب میں موجود ہے اور اگر آپ بھی اپنے مال اپنے بزنس اور اپنی آمدنی کو 700 گنا یا اس سے بھی زیادہ بڑھانا چاہتے ہیں تو آپ سورة بقرہ کی آیت 261 پڑھ لیجئے ،جو لوگ اپنے اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں انکے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دا نہ بو یا جائے اور سات بال نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں اس فار مولے سے آپ ایک روپے کو سات روپے ایک ہزار کو سات لاکھ دس ہزار کو سترلاکھ اور ایک لاکھ کو سات کروڑ بنا سکتے ہیں آپ دنیا بھر کے کارو باری اورمعاشی اصول آزما لیجئے اور آپ جتنے مرضی کاروباروں سٹاک ا یکسچینجوں اور سیونگ سکیموں میں انویسٹ کر لیجئے آپ کو اتنا زیادہ منافع کہیں سے بھی حاصل نہ ہو گا کیوں ؟ کہ یہ فارمو لا میرے رب کی طرف سے ہے اس میں کسی قسم کا نقصان یا گھاٹا نہیں اور اسے صرف سرمایہ دار ،ملٹی نیشنل کمپنیاں یا کروڑ پتی ہی نہیں استعمال کرسکتے بلکہ جو شخص بھی اللہ پر ایمان رکھتا ہے وہ چاہے کتنا ہی عام شخص کیوں نہ ہو وہ بھی یہ منافع کمانے کا حق دار ہے منانع کمانے کے ایسے ہی دو مواقع میں آج آپ کو بتلا دیتا ہوں ۔
ہم دیکھ رہے ہیں گزشتہ چھتیس دن سے ایک چوتھائی ملک سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے پونے دو کروڑ لوگ دربدر ہو چکے ہیں وہ ایک وقت کی روٹی کے محتاج ہو چکے ہیں انکے گھر مال مویشی فصلیں حتیٰ کہ عزیزواقارب لا پتہ ہو چکے ہیں انہیں طرح طرح کی بیماریوں نے گھیر لیا ہے انہیں ادویات اور علاج کی سخت ضرورت ہے وہ کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں وہ زمین پر گرے چاول چن رہے ہیں وہ خوراک کے ایک پیکٹ کے لئے ایک دوسرے کے سر پھوڑ رہے ہیں ان کے بچے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن رہے ہیں ہمارے علاقہ اور ہمارے ہی لوگ صومالیہ اوراسکے قحط زدہ عوام کا منظر پیش کرنے لگے ہیں اور انکی زندگی ،اور انکی صحت اور انکا ایمان تک خطرے میں پڑ چکا ہے ایسے میں ہم جیسے لوگ جو مزے میں ہیں جن کا دن سحری کے گھی چپڑے پراٹھوں سے شروع ہوتا ہے اور جن کی افطاریاں ریستورانوں اور ہوٹلوں میں بوفوں اور میزوں کے گرد رات گئے تک چلتی ہیں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ان لوگوں کے لئے جو سیلاب کا شکار ہو چکے ہیں آگے بڑھیں ،اپنا تن من دھن ان لوگوں کے لئے لٹا دیں اور انصار مدینہ کی یاد تازہ کر دیں ۔

اس سلسلہ میں اگر ہم فلاحی تنظیم اخوت کو کریڈٹ نہ دیں تو یہ بہت بڑی زیادتی ہوگی اخوت پاکستان نے چھوٹے قرضے فراہم کر نے والا سب سے بڑا ادارہ ہے لیکن آج کل اسکا فوکس ضلع راجن پور ،ڈی جی خان ،میاں والی ،نو شہرہ ،لیہ اور مظفر گڑھ کے سیلاب متاثرین ہیں ۔اخوت نے ریلیف ورک کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے فوری ریلیف ،جس میں خیمے خوراک ادویات اور دیگر ضروریات پہنچائی جا رہی ہیں اورمستقل ریلیف ،جب پانی اترے گا یہ گھروں کو لوٹیں گے تو ان میں روز گار کا مسئلہ در پیش ہوگا اس کے لئے اخوت نے ضلع راجن پور ماڈل متعارف کر وایا ہے اس ماڈل کے تحت یہاں سے دس ہزار غریب ترین خاندان چنیں جائیں گے اخوت انہیں بلا سود قرضہ حسنہ فراہم کرے گا جس سے یہ اپنا پرانا یا نیا کارو بار شروع کریں گے یا لائیو سٹاک یا زراعت میں انویسٹ کر سکیں گے ۔یہ لوگ یہ قرضے آسان ماہانہ اقساط اور آمدنی کے مطابق لوٹا سکیں گے ان علاقوں میں اخوت کے پانچ دفاتر لوگوں کو دس سے تیس ہزار روپے قرض دینگے اس ماڈل کے تحت بارہ سے پندرہ کروڑ روپے تقسیم کئے جائیں گے اور یہ رقم سول سوسائٹی ملک و بیرون ملک پاکستانیوں اور آپ اور میرے جیسے لوگوں کے تعاون سے اکھٹی ہو گی قرضہ کا اجراءیکم اکتوبر سے ہو گا یہ خاندان کے لئے اوسط 20 ہزار روپے کا ریلیف پیکچ بنایا گیا ہے چناچہ اگر ہم پاکستانی کم از کم ایک خاندان کی ذمہ داری اٹھا لیں تو اخوت راجن پور ماڈل کامیاب ہو سکتا ہے ۔اور اسکے بعد اسے ملک کے دیگر حصوں تک پھیلایا جا سکتا ہے اخوت اس سے قبل پاکستان کے 22 شہروں کے 70 ہزار خاندانوں میں 90 کروڑ کے قرضے تقسیم کر چکا ہے اور اخوت پر لوگوں کا اعتماد کا یہ عالم ہے کہ 99% لوگ قرضے لوٹانے خود چل کر آتے ہیں ۔
اخوت کے بنک اکانٹ  کی تفصیل :اکانٹ  نمبر :022203600000070،میزان بنک لمیٹڈ،سوفٹ :MEZNPKKAXXX ،ٹان شپ کالج روڈ برانچ لاہور، اخوت کے بانی و ایگزیکٹوڈائریکٹر، ڈاکٹر امجد ثاقب فون نمبر 03008420495 ،ڈاکٹر اظہار 03214488144 ،

ویب سایٹ www.akhuwat.org.pk
منافع کمانے کا دوسرا موقع جاننے سے قبل ایک واقعہ سن لیجئے۔ 19 جولائی 2003 گوجرانوالہ کے نواحی گاں  قلعہ دیدار سنگھ نواں پنڈ میں دس سالہ عدنان کو ساتھ والےگاں میں  سکول جاتے ہوئے اغوا کر لیا گیا اگلے روز اسکی لاش کھیتوں میں پائی گئی اسے کسی درندے نے زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا تھا ۔اس واقعہ سے قبل گاں  کے ایک درد مند اور معروف خطاط چوہدری صادق حکومت کو کئی مرتبہ درخواست دے چکے تھے کہ وہ اسی گاں  میں سکول کھول دیں اور اس کے لئے وہ اپنا گھر بھی دینے کو تیار ہیں لیکن کسی نے نہ سنی ۔
اس اندوہ ناک واقعہ کے بعد چوہدری صادق نے تحیہ کر لیا کہ وہ یہیں سکول قائم کر کے رہیں گے انہوں نے ملک بھر کے مخیر حضرات اور اداروں کا دروازہ کھٹکھٹا نے کا فیصلہ کیا ۔نیت صاف اور سمت درست ہو تو ہر کام ممکن ہو جاتا ہے چنانچہ سات سال قبل چوہدری صادق کے گھر کے ایک کمرے سے سکول کا آغاز ہو گیا جس روز صحن سے پہلی مرتبہ لپ پہ آتی ہے کی سدا بلند ہوئی وہ دن چوہدری صادق کے لئے عید کادن تھا ۔دن گزرتے رہے ،لوگ ملتے رہے اور وہ دن بھی آگیا جب کوشش پرائمری سکول آٹھ کمروں اور تین برآمدوں کے ساتھ گاں کے 110 بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے لگا لیکن فیض کے بقول چلے چلو کے منزل ابھی نہیں آئی چوہدری صادق کی جلائی ہوئی شمع کو روشن رکھنے کے لئے ہمیں بھی شریک ہو جانا چاہئے ایک بچے کی تعلیم پر ماہانہ 250 روپے خرچ آتا ہے اگر ہم چند بچوں کو اپنے بچے سمجھ لیں ہم انکی تعلیم کا بیڑا اٹھا لیں تو یہ ہمارا چوہدری صادق پر نہیں بلکہ خود پر احسان ہو گا کیوں کہ اس ملک کو سب سے زیادہ تعلیم کی ضرورت ہے اگر ہم چوہدری صادق جیسے لوگوں کی کاوشوں کو آگے بڑھائیں گے تو ان کی دیکھا دیکھی ایسی شمعیں ملک بھر میں جلنے لگیں گی آپ چوہدری صادق سے 03334216802 اس نمبر پر رابطہ کر کے وہاں خود جاکر یا ویب سائٹ کوشش سکول ڈاٹ کام پر ویزٹ کر سکتے ہیں بچوں کی سرپرستی کے لئے اکانٹ ٹائٹل کوشش سکول اکاﺅنٹ نمبر: 4-3329 برانچ 0652 مین بازار قلعہ دیدار سنگھ ضلع گوجرانوالہ ۔
اگر آپ بھی 700گنا منافع کمانا چاہتے ہیں تو پھر سن لیجئے ایسے مواقع بار بار ہاتھ نہیں آتے پھر زندگی رہے نہ رہے ،مو قع ملے نہ ملے ۔

5ستمبر2010 روز نامہ لاہور پاکستان