Twitter response:

صا حبِ حیثیت خواتین و حضرات سے گزارش

خوشیاں حاصل کر نے کے لیے خوشیاں بانٹنا ضروری

ہے مثلا کسی بھوکے کو کھانا کھلا کر ،کسی بے روز گار کو روز گار دے کر، کسی بے کس کو اچھے کپڑے پہنا کر ،کسی بے گھر کو چھت کا سایا دے کر،کسی غریب طالبِ علم کی مالی مدد کر کے جو خوشیاں حاصل ہوتی ہیں وہ دنیا جہاں کی آسائشیں اور دولت اکٹھی کر کے بھی حاصل نہیں ہو سکتیں۔آپ بھی آگے بڑہیے غربت اور جہالت کے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے لوگوں کا سہارا بنئے یہی زندگی ہے یہی بندگی ہے

ماسٹر جی! اس بچے کی فیس معاف کر دیجئے یہ یتیم ہے۔
کوشش سکول کے بانی چوہدری محمد صادق کے
حالات زندگی

ماں باپ شعور کی آنکھ کھلنے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے چار بھائیوں میں تیسرے نمبر پر بڑی بھابھی جو کہ ماں کی جگہ تھیں کے زیر سایہ گورنمنٹ پرائمری سکول مین بازار قلعہ دیدار سنگھ میں داخل ہوا ہیڈ ماسٹر زیدی صاحب ماسٹر علم دین اور ماسٹر لال حسین صاحب انتہائی شفیق اور محنتی اساتذہ سے فیض پایا اس وقت تخطی پر لکھنے کا رواج تھا لہذا خطاطی میں اول انعام وزیر آباد کا پیتل کی دستی والا چاقو ملا ۔پرائمری کے بعد قلعہ دیدار سنگھ کے ہا ئی سکول میں داخلہ ملا 1960میں مڈل سٹینڈرڈ کا امتحان پاس کیا جب ہا ئی سکول میں داخل ہوا تو میری پھوپھی محمد بی بی نے ہیڈ ماسٹر صاحب سے کہا کہ ماسٹر جی اس بچے کی فیس معاف کر دیجئے یہ یتیم ہے ۔ہائی سکول میں کبڈی کا کھلا ڑی تھا انہیں دنوں سکول میں فوج میں بھرتی کرنے والی ایک ٹیم آئی ہوئی تھی کچھ دوسرے لڑکوں کے ساتھ فوج میں بھرتی ہو گیا 1960کا واقعہ ہے بمشکل ڈیڑھ سال فوج میں گزارے اور گھر واپس آگیا۔ ماں باپ تو بچپن سے ہی وفات پا گئے تھے بہن کوئی نہ تھی بھا ئی کھیتی باڑی کرتے تھے تقریبا چھ ماہ تک بھائیوں کے ساتھ کھیتوں میں ہل چلا تا رہا- قریبی گاں کا مو ں ملہی میں ایک امام مسجد مولوی ظہور احمد صاحب جو کہ ایک نامور خطاط بھی تھے شاگردی اختیار کی ۔کتابت سیکھنا شروع کری۔

اقراءوربک الاکرم الذی علم بالقلم

تیرا رب بڑا کریم ہے جس نے علم سکھا یا قلم سے اللہ تعالی نے مجھے قلم کا علم عطا کیا ۔ راولپنڈی میں چند دن تعمیر میں کام کیا ۔ کوہستان اخبار راولپنڈی میں نامور خطاط عباس صاحب کے زیر سایہ کام کیا ۔ پھر لاہور آگیا اور روزنامہ کوہستان جو کہ میکلور روڈ ، رتن اور صنوبر سینما کے درمیان واقع تھا ۔ میں باقاعدہ ملازمت 1965ءمیں اختیار کی۔ اس وقت ایڈیٹر نسیم حجازی تھے ۔ ایڈیٹر میگزین منہاج الدین اصلاحی ، مسکین حجازی اور رانا اکرام کے ساتھ انتہائی خوشگوار ماحول میں کام کرنے کا موقع ملا ۔ محترم ہیڈ کاتب صوفی خورشید عالم صاحب جوکہ خط نستعلیق کے بادشاہ تھے خطاطی میں فیض حاصل کیا ۔ پھر زندگی کی گاڑی کا رخ ہفت روزہ زندگی کی طرف ہو گیا ۔ ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی ۔ ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی اور ہیڈ کیلیگرافر رشید قمر کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ۔ سقوط ڈھاکہ پر لکھا جانے والا الطاف حسن قریشی صاحب کا مضمون جنرل نیازی اور جنرل اروڑا کا پلٹن میدان میں ایک چھوٹے سے میز اور دو کرسیوں پر بیٹھ کر جنگ بندی پر دستخط کرنے کا واقع کتابت کیا ۔ جو کہ آج بھی ذہن میں نقش ہے ۔ یا د آتا ہے تو ندامت سے سر جھک جاتا ہے ۔ اسکے بعد روزنامہ مساوات فیصل آباد اور جسارت ملتان ، مساوات اور جرات لاہور میں بھی بطور کیلیگرافر کام کیا ۔روزنامہ نوائے وقت لاہور میں محترم رشید احمد وارثی کے زیر سایہ 10سال خطاطی کی نوائے وقت میں شام 6بجے سے رات 2بجے تک کام کرتا اور دن کو ہاک ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں سکواڈرن لیڈر عبد القیوم حجازی جو کہ این سی اے کے پڑھے ہوئے انتہائی کریٹومائنڈ تھے ایڈورٹائزنگ خطاطی میں مہارت حاصل کی ۔ اللہ تعالیٰ نے روزگار کے دروازے کھول دیئے ۔ دن کو ہاک ، ڈین ایڈ ، مڈلنک ، میڈاس ، ایس وی اور انٹر فلو 6ایڈ ورٹائزنگ ایجنسیوں کی کتابت کرتا اور شام 6 تا 2 بجے رات تک نوائے وقت میں ڈیوٹی دیتا ۔ قلم کے علم سے اپنے تین بیٹوں
(B.A) کلیماللہ چوہدری
(Electronic Engineer)  (عتیق اللہ چوہدری (مرحوم
(MSc Mass Communication) عبیداللہ چوہدری
اور(D.com + CT) بیٹی رخشندہ
(B.com) بیٹی فرخندہ
جیسی اعلٰی تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔ اور گلشن راوی میں گھر بھی تعمیر کیا۔ ۔ زندگی کی گاڑی اتنی تیزی سے سفر کررہی رتھی ۔ صبح 10بجے گھر سے نکلتا رات 2بجے لوٹتا ، تمام ذمہ داریوں سے فارغ ہوچکا تھا ۔ رات کو سونے لگتا تو طرح طرح کے خیالات نیند کو بھگا دیتے ۔ سوچتا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس قلم کے علم سے نوازا ۔ دن رات کام کیا اب مجھے اپنے گاں (نواں پنڈ ، قلعہ دیدار سنگھ ، ضلع گوجرانوالہ ) کا خیال آتا کہ پاکستان کو بنے 50سال سے زیادہ عرصہ گرز چکا ہے لیکن میرے گاں میں سکول نہیں بن سکا ۔ کیوں نہ اپنے گاں میں علم کی شمعیں روشن کروں ۔ جب میں گاں میں آتا تو اپنے گاں کے بچوں کو گوبر کے ڈھیروں پر کھیلتا ہوا دیکھتا اور سوچتا کہ یہ بڑے ہو کر کیا بنیں گے ۔ان کا مستقبل مجھے تاریک نظر آتا ۔ سو میں نے اپنے گاں میں سکول قائم کرنے کا پختہ اردہ کرلیا ۔ میرے حصے میں 14مرلے کا کارنر پلاٹ آیا انہی دنوں اخبار میں ایک کالم نگار جوکہ آنکھوں پر ہر وقت کالی عینک لگائے رکھتے ہیں ۔ کا کالم چھپا کہ برطانیہ میں مقیم پاکستانی اپنے ملک میں ایجوکیشن پر سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں لیکن خوفزدہ ہیں کہ پاکستانی ادارے ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے ۔ یعنی تحفظات کا شکار ہیں ۔ میں نے کالم پڑھااور ان کی رہائش گاہ نزد نثار آرٹ پریس گورو مانگٹ روڈ پر حاضر ہوا اس نیت سے کہ ان سے معلومات حاصل کروں اور ان محب وطن پاکستانیوں کو اپنا 14 مرلے کا پلاٹ گفٹ کروں کہ وہ آئیں اور میرے گاں میں غربت اور جہالت کے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے لوگوں کا سہارا بنیں ۔ علم کی شمعیں روشن ہوں ۔ کئی بار دولت خانہ پر حاضری دی ۔ دروازے کے باہر ہی ملازم کے ذریعے پیغام ملتا ۔ صاحب باتھ روم میں ہیں ۔ صاحب اسلام آباد جانے کے لئے تیار ہورہے ہیں ۔ صاحب کالم لکھ رہے ہیں ۔ لیکن انتظار کرنے اور بیٹھنے کو کبھی نہ کہا ۔ میں کس جذبے سے سفر کر کے ملاقات کے لئے حاضر ہوتا اور مایوس لوٹتا ۔ ایک دربند تو سو در کھلے کے مصداق کاغذ پر چند سطریں لکھ کر ریواز گارڈن روزنامہ جنگ کے کالم نگار منو بھائی کے دروازے پر دستک دی ۔ منو بھائی باہر آئے ڈرائینگ روم میں لے گئے ۔ چائے وغیرہ پی ۔ مدعا بیان کیا ۔ تحریر کردہ چند سطریں منو بھائی کے حوالے کیں اور آگیا ۔چند اور صادقوں کی ضرورت ہے ۔ عنوان ہے گریبان کا ۔ کہ میں اپنا کارنر پلاٹ تعلیم کے لئے وقت کرنا چاہتا ہوں ۔ کوئی آئے اور دو کمرے بنائے علم کی شمع روشن ہو ۔ چند فون آئے اور بس ! اس دوران میں اپنے چودہ مرلے کے پلاٹ پر ریٹائر کی لائف گزارنے کے لئے دو کمرے بنا لیتا ہوں تو گاں میں ایک حادثہ رونما ہوجاتا ہے ۔ 10سالہ طالب علم عدنان کو سکول جاتے ہوئے اغوا کرلیا جاتا ہے ۔ ایک درندہ اخلاق باختہ زیادتی کے بعد عدنان کا گلا دبا کر جان سے ماردیتا ہے اور لاش دو دن بعد جوار کے کھیت سے ملتی ہے ۔ پورا گاں اس واقع سے سہم جاتا ہے اور قلعہ دیدار سنگھ میں بچوں کو سکول بھیجنے سے خوفزدہ ہے ۔دوسرا کالم : اندیشوں کا زہر امیدوں کا تریاق : گریبان کا عنوان بنتا ہے ۔ عدنان کا واقع بیان کیا جاتا ہے ۔ حکومت وقت سے ایک پرائمری سکول کے قیام کی درخواست کی جاتی ہے ۔ لیکن حکمرانوں کے کان پر جوں نہیں رینگتی ۔ تیسرا کالم : کوشش پرائمری سکول ۔ گریبان کا عنوان ہے ۔ اس کالم میں میں اپنی ذاتی رہائش کا ایک کمرہ خالی کرتا ہوں اور 8ستمبر 2003ءکو (عالمی یوم خواندگی )بروز پیر صبح 7:30 بجے میرے گھر کے صحن میں لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری ۔ علامہ اقبال کی نظم کے ساتھ کوشش سکول میں تعلیم کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ یقین جانئے جب میں صبح 7:30 بجے ترانہ اور علاقہ اقبال کی نظم سنتا ہوں تو ایسا محسوس کرتا ہوں کہ میں نے اگر زندگی میں کوئی کام کیا ہے تو سب سے اچھا کام یہ کیا ہے ۔ 8ستمبر 2003ءعالمی یوم خواندگی کو میں نے اپنے گھر کا ایک رہائشی کمرہ خالی کرکے تعلیمی سفر کا آغاز کیا ۔ آج اللہ کے فضل وکرم سے کوشش سکول کی 10کمروں اور 3برآمدوں پر مشتمل ڈبل سٹوری عمارت قائم ہو چکی ہے ۔ جہاں گاں کے 216سے زیادہ بچے مفت تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ بیروزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے جسم اور روح کا رشتہ قائم رکھنا مشکل ہورہا ہے ۔تعلیم کے اخراجات تو سوچ سے بھی بہت آگے ہیں ۔ تاہم میری خواہش ہے کہ جس طرح میرے پوتے عمار اور اضرار گلبرگ لاہور کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ اسی طرح میرے گاں کے بچے اور بچیاں بھی تعلیم حاصل کریں ۔ وسائل انتہائی کم اور خواہش بہت بلند کا عزم لیے اندرون و بیرون ملک مخیر خواتین حضرات سے درخواست کرتا ہوں ۔ کہ وہ ان غریب طلباءکی مدد کریں ۔ جن کے بستے کتابوں اور کاپیوں سے خالی ۔ اور پاں میں سکول شوز کی بجائے قینچی چپل ہے ۔

آ ئیں سب مل کر ان کی زندگی بدل دیں ۔

چوہدری محمد صادق (سرپرست کوشش سکول ) موبائل نمبر 03334216802

 www.koshishschool.com :ویب سائٹ   info@koshishschool.com:ای ۔ میل